چابہار(ہمگام نیوز ) بلوچی موسیقی کے معروف گلوکار اور موسیقار نعیم علی بلوچ جمعہ، 14 اگست 2026 کو نیکشہر سے چابہار جانے والی شاہراہ پر پیش آنے والے ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔
نعیم علی بلوچ کا تعلق چابہار سے تھا۔ ان کی اچانک موت کی خبر نے بلوچ موسیقی کے مداحوں اور فنکار برادری میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔
نعیم علی بلوچ نئی نسل کے ان بلوچ گلوکاروں میں شامل تھے جنہوں نے گزشتہ برسوں کے دوران مختلف گیتوں اور موسیقی کے پروگراموں کے ذریعے خاص طور پر نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کی۔ وہ اپنے آفیشل چینل پر خود کو “چابہاری بلوچ گلوکار” اور “گلوکار و موسیقار” کے طور پر متعارف کراتے تھے اور بلوچی موسیقی میں جدید انداز کو فروغ دے رہے تھے۔
ان کے معروف گیتوں میں “تنہائی”، “راہچار”، “دلہ درد بازا” اور “من نزانت” شامل ہیں۔ گیت “تنہائی” میں نعیم علی اور نسیم علی نے بطور گلوکار حصہ لیا، جبکہ نعیم علی نے اس کے بول اور طرز کی تیاری میں بھی کردار ادا کیا تھا۔
اسی طرح “دلہ درد بازا” میں نعیم علی نے گلوکاری، موسیقی ترتیب دینے اور ارینجمنٹ کی ذمہ داریاں انجام دیں، جبکہ وسیم علی نے بنجو بجایا تھا۔
نعیم علی بلوچ اسٹوڈیو میں موسیقی ریکارڈ کرنے کے علاوہ مختلف تقریبات اور پروگراموں میں بھی پرفارم کرتے تھے۔ بلوچ موسیقی سے وابستہ متعدد معروف فنکاروں کے ساتھ ان کی شراکت داری بھی ان کے فنی سفر کا اہم حصہ رہی۔
نعیم علی بلوچ کا انتقال ایسے وقت میں ہوا ہے جب گزشتہ چند برسوں کے دوران بلوچ موسیقی میں گلوکاروں اور موسیقاروں کی ایک نئی نسل سامنے آئی ہے، جو روایتی بلوچی سازوں اور دھنوں کو جدید موسیقی کے آلات اور انداز کے ساتھ نئی نسل تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کی اچانک وفات بلوچ فنکار برادری اور بلوچی موسیقی کے مداحوں کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دی جا رہی ہے۔


