کوئٹہ (ہمگام نیوز) تیرہ نومبر یوم شہدائے بلوچ کی مناسبت سے بلوچ شہداء کمیٹی کی جانب سے جاری کی گئی پمفلٹ بلوچستان کے مختلف علاقوں کوئٹہ ، قلات، مستونگ، حب، ڈیرہ غازی خان، تونسہ شریف، نصیر آباد،نوشکی، خاران ، اور دیگر جگہوں پہ تقسیم کی گئی جس میں کہا گیا کہ
زندگی سے محبت ایک فطری عمل ہے اسی طرح موت کا خوف بھی عین فطری ہے ۔ بغیر کسی مقصد کے نا جان لینا آسان ہوتا ہے اور نا ہی جان دینا ، یہ مقصد ہوتا ہے جو ہمیں ایک خود غرضانہ زندگی سے نکال کر بے غرضی سے موت کو گلے لگانے پر آمادہ کرکے شہادت کے عظیم مرتبت سے ہمکنار کرتا ہے ۔ایک شہید کیا ہوتا ہے ؟ آخر کیوں دنیا میں چند ہی لوگ اس اعزاز کے حقدار ٹہرتے ہیں؟ شہید وہ نہیں ہوتا جو قتل ہوجائے بلکہ شہید وہ ہوتا ہے جو ایک مقصد رکھتا ہے، اس مقصد سے جنون کی حد تک پیار کرتا ہے ، اسکے لیئے مصائب اٹھاتا ہے اور بالآخر اسکے حصول کے راہ میں جان دیکر جامِ شہادت نوش کرکے امر ہوجاتا ہے ۔دورِ موجود کے تمام آزاد و خوشحال اقوام کے تاریخ پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑائیں تو یہ امر کھل کر واضح ہوجائے گا کہ جس قوم نے بھی اپنے آزادی و خوشحالی کی خاطر قربان ہونے پر آمادہ جتنے زیادہ فرزند جنے وہ بام عروج پر اتنے ہی اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے ۔ جس قوم نے بھی ایک آزاد و خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھی ، جس نے بھی نا قابلِ تسخیر قوت حاصل کی وہ سب اس خون کا مرہونِ منت رہے ہیں جو انکے اسلاف نے بے لوثی کے ساتھ ایک روشن مستقبل کی خاطر بہایا ہے۔
بلوچ سرزمین کے حقیقی مالکوں!گوکہ بلوچ قوم ڈیڑھ سو سال سے زائد عرصے سے زیر قبضہ رہنے کی وجہ سے پسماندہ ہی رہا لیکن بلوچ ان با فخر اقوام میں ایک مقام رکھتی ہے، جو اپنے آزادی کی حفاظت یا قومی آزادی و خوشحالی کے حصول کی خاطر شہادت کو چننے والے ہزاروں فرزند پیدا کرنے کے قابل ہوئے اور آج دشمن کے حد درجہ مظالم کے باوجود بلا خوف ہزاروں مزید پیدا کررہا ہے ۔ یہ شہیدوں کے اس بہتے خون کے بدولت ہی ممکن ہوا ہے کہ مسلسل حملوں ، قبضے اور نسل کشیوں کے باوجود نا صرف بلوچ بحثیتِ ایک قوم وجود و پہچان رکھتی ہے بلکہ اپنے نام سے پہچان رکھنے والے ایک وسیع و عریض اور وسائل سے مالا مال سرزمین کا مالک بھی ہے ، جو مستقبل میں آزادی و خوشحالی کے تمام ممکنات کو روشن رکھتا ہے ۔ آج بلوچ کو آپس میں ایک قوم کی طرح جوڑے رکھنا ہو یا قبضہ گیر و مقبوضہ کے بیچ لکیر کھینچنا ہو یہ انہی ہزاروں شہید بلوچوں کے قربانیوں کے ہی مرہونِ منت ہے ۔ 13 نومبر ہر سال آنے والا وہ دن ہے جس دن بلوچ قوم اپنے ان تمام شہداء کو برابری کے ساتھ خراج تحسین پیش کرتی ہے اور ان کے ساتھ تجدید عہد کرتی ہے جنہوں نے بلوچ قوم کے آزاد ، خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل اور وطن کے دفاع کیلئے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔یہ دن شہید خان محراب خان اور اسکے ساتھیوں کے اس عظیم شہادت کے مناسبت سے منائی جاتی ہے جب انہوں نے13 نومبر 1839 کو اس وقت کے عالمی قوت برطانوی راج سے یقینی موت کو دیکھنے کے باوجود مادر وطن کے دفاع کیلئے مقابلہ کرنے کو چنا اوراپنی جانیں قربان کردیں ۔محراب خان کے اس تاریخ ساز بے لوث شہادت سے مادر وطن کی خاطر قربانی دینے کا ایک ایسا مقدس سلسلہ شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے اور بلوچ قومی آزادی تک جاری رہے گی ۔
بلوچ ماوں ، بہنوں ، بھائیوں اور بزرگوں! قوم کی خاطر قربان ہونے کا یہ جذبہ اور شہیدوں کے خون کی یہ تاثیر ایک ایسی قوت ہے ، جو قوموں کو بناتی ہے اور دشمن کو خوف میں مبتلاء کرتی ہے اور اسے شکستِ فاش دیتی ہے ۔ آج شہیدوں کے قربانیوں کے اس قوت سے خوفزدہ دشمن اپنے مکاریوں سے شہیدوں کے قربانیوں کے اہمیت کو گٹھانے کیلئے کبھی ان شہیدوں کو کسی ملک کا ایجنٹ اور کبھی زرخرید کہہ کر انکی بے حرمتی کرتا ہے تو کبھی انکی تصویریں تک آویزاں کرنے نہیں دیتا لیکن ہم اس قوم کے باسی ہونے کے حیثیت سے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان شہیدوں نے کبھی حرص و لالچ نہیں رکھی، انہوں نے ڈگریوں اور نوکریوں کو ٹھکرایا ، انہوں نے سیم و زر کی پرواہ نہیں کی ، انہوں نے انفرادی خوشحال مستقبل کا پیچھا نہیں کیا بلکہ انہوں اپنی جانیں قربان کیئے ، انہوں نے زندگی میں ہر طرح کے مصائب خندہ پیشانی سے تسلیم کیئے ، انہوں نے دشمن کے اذیت گاہوں میں غیر انسانی اذیتیں برداشت کیئے ، وہ اپنے پیچھے بے کفیل خاندان چھوڑنے سے نہیں ہچکچائے ۔ یہ قربانیاں کوئی شخص مال و زر کیلئے نہیں بلکہ ایک مقصد کیلئے دیتا ہے اپنے ذات اور وجود سے اونچے ایک مقصد کیلئے اور ان شہیدوں کا عظیم مقصد بلوچ قوم کی آزادی اور خوشحالی تھی ۔
بلوچ شہداء کے خون کے وارثوں!
آئیں 13 نومبر یوم شہداء بلوچ کے موقع پر دشمن کے عزائم خاک میں ملاتے ہوئے اپنے ان تمام شہیدوں کوانکے
واجب عزت و حیثیت دینے کیلئے شمعیں جلائیں ، اجتماع کریں ، دعائیہ تقریبیں کریں جنہوں خو د مر کر ہمیں زندہ کردیا
جاری کردہ : بلوچ شہداء کمیٹی


