یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںبلوچ قوم کومٹانےمیں تمام قبضہ گیروں کی طرح پاکستان بھی ناکام ریےگا،؛استادواحد...

بلوچ قوم کومٹانےمیں تمام قبضہ گیروں کی طرح پاکستان بھی ناکام ریےگا،؛استادواحد قمبربلوچ

( ہمگام نیوز ) بلوچ قومی تحریک آزادی میں ایک سپاہی کی حیثیت سے میں نے ایک طویل مسافت طے کی ہے۔ اس دوران میں نے تحریک میں بہت سے نشیب و فراز کامشاہدہ کیاہے۔ پہلی بار کوشش کررہاہوں کہ تحریک پر ایک طائرانہ نظرڈالنے کے ساتھ ساتھ تحریک کے باربار تسلسل ٹوٹنے کے بنیادی وجوہات اختصارکے ساتھ پیش کروں۔

قوم ایک وحدت کا نام ہے جس میں لوگوں کا بہت بڑا گروہ جن کا کسی سرزمین سے وابستگی ہو اور تمام لوگ جغرفیائی یا معاشی مفادات سے مشترک ہوں۔ اس اشتراک عمل کو میں’قوم‘سمجھتاہوں۔ بلوچ بھی ایک قوم کی حیثیت رکھتی ہے جو ہزاروں سال ایرانی پلیٹو میں اپنی موجودگی کا احسا س تاریخی حوالے سے دلاتی رہی ہے۔ بقول ڈاکٹر نصیر دشتی ’’بلوچ قوم سات ہزارسال سے اس خطے میں آباد ہے‘‘۔ یہ خطہ اپنی ذرخیزی اورتزویراتی اہمیت کی وجہ سے ہمیشہ غاصبین کی توجہ کا مرکز رہاہے اورآج بھی صورت حال ماضی سے زیادہ مختلف نہیں ہے لیکن بلوچ قوم کا اپنی وجود اور اپنی تشخص سے وابستگی اس بات کا غمازہے کہ بلوچ قوم کو مٹانے میں تمام قبضہ گیروں کی طرح پاکستان بھی ناکام رہے گا اوربلوچ اپنے تاریخی فریضے کی ادائیگی میں سرخ رو ہوگا ۔

آج کی گفتگومیں ہم تاریخ پر بحث کرنے کے بجائے بلوچوں کی قومی آزادی کی جدوجہدپر اپنے خیالات کا اظہارکریں گے جوکہ میرا بنیادی موضوع بحث ہے ۔یہ تاریخی صداقت ہے کہ بلوچ قبائلیت میں منقسم قوم رہی ہے۔ وہ ہرحملہ آور کے خلاف قبائلی شکل و صورت میں نبردآزما رہے ہیں۔ انگریزوں کے خلاف ہماری جنگ قبائلی بنیاد پر ہوئی ۔انگریزوں کے خلاف جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں جن کا آغاز خان مہراب خان کی شہادت سے ہوتا ہے، جنہوں نے قبضہ گیریت کے خلاف سرتسلیم خم کرنے کے بجائے انگریزی فو ج کا مقابلہ کیا اوراپنے ساتھیوں کے ہمراہ شہیدہوئے۔ اسی طرح مری قبائل اپنے علاقے میں اپنے زورِ بازو پر انگریزکے خلاف لڑتے رہے۔کیچ مکران میں بلوچ خان نوشیروانی انگریزوں کے خلاف لڑتا ہوا ’’گوک پروش ‘‘ کے میدان میں شہید ہوئے ۔جھالاوان میں بھی مزاحمت ہوئی مگر صورت قبائلی رہی۔ یہاں تک ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس دورکی مناسبت میں بلوچ سماج کی ہیئت قبائلی تھی اور بلوچ قبائلی نظم میں زیادہ منظم تھے لیکن ہماری جدید تاریخ جو بلوچ وطن پر پاکستان کے قبضے سے شروع ہوتاہے اس دورمیں بھی بلوچوں میں مرکزیت کی کمی تھی۔ پاکستان کے خلاف جتنے مزاحمتی دور گزرے ہیں سب کے سب قبائلی سرداروں یاقبائلی شخصیات کے ماتحت ہوئی ہیں۔ ان جنگوں میں قبائلیت کا جوش و جذبہ زیادہ تھا۔ پاکستان بننے کے بعد پاکستان نے قلات پر حملہ کرکے مارچ ۴۸ء کو بلوچستان پر قبضہ کرلیا ۔پہلامزاحمت آغاعبدالکریم نے پاکستانی حکومت کے خلاف جنگ کا اعلان کرکے کیا اورآغاعبدالکریم کی جنگ ایک علامتی جنگ تھی جواثرات کے حوالے سے موثرمگرمیدان جنگ میں بڑی کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ آغا تھوڑی سی مزاحمت کے بعد سرلٹھ چلاگیا کیونکہ ان کے پاس آزادی کی جنگ میں تنظیم یا پارٹی کا وجود نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ایوب خان دور میں نواب نوروز خان اور اس کے ساتھیوں نے ایوبی حکومت کے خلاف زبردست مزاحمت کی اوردشمن نے نوروز کو دھوکہ دیکر پہاڑوں سے نیچے اتارا اوران کو حیدرآباد جیل میں پابند سلاسل کردیا ۔ ان کے ساتھیوں کو حیدرآباد میں پھانسی دی گئی؛ خود بابوصاحب پیرانہ سالی میں جیل میں وفات پاگئے۔ کہتے ہیں کہ نواب صاحب پر جیل میں تشددکیاگیا جس سے وہ شہید ہوگئے ۔

نواب نوروزخان کی جدوجہدکے بعد بھٹو کے دورمیں جب وزیر اعلیٰ عطاء اللہ مینگل کی نیپ کی حکومت ختم کی گئی توایک مزاحمت دوبارہ شروع ہوئی مگر اس دور میں بھی کوئی واضح سیاسی تنظیم نہیں تھی اور اس جنگ میں صرف مری اور مینگل قبائل جنگ لڑرہے تھے۔ کوئی واضح سیاسی لائحہ عمل نہیں تھا۔ کوئی تنظیمی پالیسی نہیں تھی۔ مری اور مینگل قبائل اپنے سربراہوں کے مرہون منت تھے ۔جب انیس سوستترکو قبائلی سربراہاں جیل سے رہا ہوئے تو پورے بلوچستان میں خاموشی چھاگئی۔ کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس جنگ کا کیا مقصد تھا ۔ضیاء الحق کے پورے دورحکومت میں بلوچ قومی تحریک میں حرکت دیکھنے میں نہیں آئی کیونکہ تمام جددجہد کا محور قبائلی تھا اور پوری تحریک چند شخصیات کے تحریک سے وابستگی ،اندازوں اور سوجھ بوجھ پر منحصرتھا۔ تنظیم اور تنظیمی نظم میں فیصلوں کی عدم موجودگی سے اداروں کا خلاء واضح طورپر محسوس ہوتاتھا مگر اس جانب سنجیدہ کوششیں کبھی نہیں دیکھی گئیں۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ جس مقصد کے لئے ہزاروں بلوچوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ،بے پناہ مالی مشکلات کا سامنا کیا، نتیجہ انہیں مایوسی کے سوا کچھ بھی نہیں ملا ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز