شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںبلوچ پروفیسرز کی ریاستی اداروں کے ہاتھوں اغوا قابل مذمت ہے:ایف بی...

بلوچ پروفیسرز کی ریاستی اداروں کے ہاتھوں اغوا قابل مذمت ہے:ایف بی ایم

کوئٹہ(پریس ریلیز) فری بلوچستان موومنٹ (ایف بی ایم) کے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز بلوچستان کے علاقے مستونگ سے پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی نظام بلوچ اور شبیر شاہوانی کی پاکستانی ریاستی اہلکاروں کے ہاتھوں جبری اغواء نما گرفتاری کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔

اغوا کاروں نے بلوچ اساتذہ سے بدتمیزی کرکے انھیں مختلف طریقوں سے ازیتیں دینے کے تین گھنٹے کے بعد شبیر شاہوانی اور نظام بلوچ کو رہا کیا جبکہ پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی ابھی تک ان کی تحویل میں ہے۔

ہم مہذب دنیا سمیت انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ پروفیسر لیاقت سنی سمیت تمام گمشدہ بلوچوں کی رہائی کے لئے ریاست پاکستان پر فی الفور دباو ڈال کر اپنی بین القوامی زمہ داریاں پورا کریں۔

بلوچستان میں پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ اداروں کے مظالم جبر و بربریت کی وجہ سے ایسے ہزاروں پرامن سیاسی کارکن جن کا بلوچستان میں نقل و عمل نامکنات میں سے تھا، ایسے حالات میں گاڑیوں میں سوار درجن بھر مسلح افراد کے آزادانہ نقل و عمل میں بڑی شاہراہوں سے لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر ایک مقام سے دوسرے مقام تک بغیر کسی ریاستی رکاوٹ کے اغوا کرکے لے جانا بذات خود اس بات کی ثبوت ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں ریاست براہ راست ملوث ہے۔ ایسے حالات ہی کی وجہ سے ہزاروں سیاسی کارکن اپنا سب کچھ چھوڑ کے اپنی جان بچانے دوسرے ممالک کی طرف ہجرت کرنے اور یورپ، امریکہ اور خلیج میں سیاسی جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ہم بین الاقوامی میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچستان کے اعلی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی دن دھاڑے اغوا سمیت بدمعاش دہشتگرد ریاست پاکستان کی جانب سے بلوچ عوام پر ہونے والے مظالم کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دنیا کے سامنے لائے اور سچائی کی آواز کو پیش کر کے اس خطے کو مزید تباہی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

ایف بی ایم میڈیا کے توسط سے اپنے پارٹی پالیسی بیان میں بلوچ قوم اور دنیا کے علم میں یہ بات لانا چاہتی ہے کہ بلوچ قوم روز اول سے ان دو قابض دہشتگرد ریاستوں ایران و پاکستان کے ہر طرح کے مظالم و محکومیت کا شکار چلی آرہی ہیں۔ ایران و پاکستان کی وجہ سے آج یہ خطہ، مشرق وسطی، سمیت افغانستان اور انڈیا عالمی امن کی سلامتی کیلئے سنگین خطرے سے دو چار ہوچکی ہیں۔

دنیا پر یہ بات واضع ہونا چائیے کہ بلوچ عوام ہزاروں سالوں سے اپنے آباواجداد کے جدی پشتی سرزمین پر رہ کر پاکستان و ایران کے غیر قانونی قبضہ کی وجہ سے غلامی کی زندگی گزار کر امن سکون اور ترقی و خوشحالی کیلئے ترس رہے ہیں۔

بلوچ دشمن ریاستیں ہمارے قوم کیلئے زندگی کے ہر شعبے کو شجر ممنوعہ بنائے رکھے ہیں۔جس میں بلوچ نئی نسل کیلئے معیاری تعلیم، بنیادی انسانی ضروریات، صحت کے سہولیات کے عدم دستیابی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور معاشی ہر حوالے سے یہی قابض دہشتگرد ریاستیں بلوچ قوم کی ہر دور میں استعصال کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان اور اس کے خفیہ ادارے بلوچ قومی آزادی کی تحریک کو کاونٹر کرنے کیلئے پرامن و غیر مسلح سیاسی کارکنوں اور پورے معاشرے میں اجتماعی سزا کے طور پر جبری اغوا کے طریقہ کار کو بڑے منظم انداز سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کا انحصار پاکستانی ریاستی کنٹرول میڈیا پر ہے جس کی وجہ سے وہ اب تک پاکستانی ریاست کے ان گھناؤنے جرائم کو دُنیا کے سامنے لانے میں ناکام رہے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ریاست پاکستان مظلوم بلوچ ،پشتون اور سندھی اقوام پر ڈھائے گئے مظالم میں اس ناروا غیر انسانی ہتکھنڈے کو کاونٹر انسرجنسی کے طور پر کامیاب سمجھ کر بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔

مظلوم اور مقبوضہ اقوام کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے شب و روز کوشش اور عوامی شعور و آگاہی کی وجہ سے ریاست کے سابقہ گھناؤنے غیر انسانی مجرمانہ حرکات کا پردہ فاش ہوچکا ہے جس کی وجہ سے پاکستان اب بلوچ فرزندوں کی جبری اغوا کاری کیلئے اس طرح کے نئے ہتکھنڈے سامنے لارہی ہے تاکہ اپنے ریاستی جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے کیلئے دنیا کو ناکام طریقے سے دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز