بظاہر یہ اقدام ڈھاکا کی طرف سے گزشتہ ماہ پاکستان کو بنگلہ دیش سے اپنی ایک سفارتکار واپس بلانے کی درخواست کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
عہدیدار نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں اور معاملے کی حساس نوعیت کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔
پاکستان کی طرف سے بنگلہ دیش کی سفارت کار کو ملک چھوڑنے کا حکم دینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم اطلاعات کے مطابق سفارت کار موشومی رحٰمن پر الزام ہے کہ وہ سفارتی آداب کے منافی سرگرمیوں میں ملوث رہیں۔
ڈھاکا میں وزارت خارجہ کے عہدیدار شہریار عالم نے اس بات کی تصدیق کی کہ موشومی رحمٰن کو اگلے 48 گھنٹوں میں پاکستان چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موشومی رحمٰن کو پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں بنگلہ دیشی سفارتخانے میں تعینات کیا جا رہا ہے۔
دو ہفتے قبل بنگلہ دیش نے مبینہ طور پر شدت پسندوں کی مالی معاونت میں ملوث ہونے پر پاکستان سے اپنی سفارتکار فارینہ ارشد کو واپس بلانے کا کہا تھا۔
پاکستان نے ان الزامات کو مکمل طو پر بے بنیاد کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔
دسمبر میں ایک مشتبہ شدت پسند ادریس شیخ نے ڈھاکا میں ایک عدالت میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ سفارتکار فارینہ ارشد اس کے ساتھ رابطے میں تھیں اور اسے 30,000 ٹکے بھی دیے جن کی مالیت 380 ڈالر کے قریب بنتی ہے۔
اس بیان کے بعد بنگلہ دیش کی حکومت نے غیر رسمی طور پر فارینہ ارشد کو ملک سے چلے جانے کو کہا تھا۔ تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ الزامات سامنے آنے کے بعد پاکستان نے خود ہی اپنی سفارتکار کو وطن واپس بلا لیا اور انہیں ملک بدر نہیں کیا گیا۔


