شال (ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ شال زون کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں ریاستی تعلیم دشمنی اور استعماری پالیسیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست بلوچ طلباء کو تعلیم سے محروم رکھنے کے لیے آئے روز نئے ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہے۔ کبھی جبری گمشدگیاں، کبھی ماورائے عدالت قتل، اور کبھی معمولی نوعیت کے مسائل کو جواز بنا کر تعلیمی اداروں کو بند کر دیا جاتا ہے، جس سے طلباء کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور بعض اوقات وہ مستقل طور پر تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ حالیہ واقعے میں جامعہ بلوچستان میں دو طلباء تنظیموں کے کارکنان کے درمیان معمولی نوریت کی تکرار کو بہانہ بنا کر انتظامیہ نے تعلیم کا سلسلہ معطل کر دیا۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے طلباء کو رات کے وقت زبردستی ہاسٹل سے نکالا کر جامعہ بلوچستان کو تالے لگا دیے گئے۔ یہ عمل نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ تعلیمی دشمنی کا کھلا ثبوت ہے۔ اس سے قبل بولان میڈیکل کالج میں بھی ایک معمولی واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے ادارے کو کئی مہینوں تک بند رکھا گیا، جس کے نتیجے میں طلباء کو شدید ذہنی و تعلیمی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید برآں، ترجمان نے کہا کہ کسی بھی ملک کے آئین یا قانونی دائرہ کار میں یہ بات شامل نہیں کہ طلباء کو رات کے اندھیرے میں جبراً ہاسٹل سے بےدخل کیا جائے یا تعلیمی ادارے کو بند کر دیا جائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چند روز بعد جامعہ بلوچستان میں سالانہ امتحانات کا آغاز ہونے والا ہے، مگر موجودہ صورتحال میں طلباء دربدر، غیر یقینی کیفیت اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، جو ان کی تعلیمی کارکردگی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔
بیان کے اختتام پر شال زون کے ترجمان نے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جامعہ بلوچستان کی انتظامیہ اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ جامعہ بلوچستان اور ہاسٹلز کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ طلباء بلا کسی رکاوٹ کے اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔


