شال (ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے ایک تازہ ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ریاست پاکستان نے بی وائی سی کی قیادت کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے رکھا ہے، اور گرفتاری کے تین ماہ گزر جانے کے باوجود انہیں عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی آئین کے مطابق 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کسی بھی شہری کو 90 دن کے اندر اندر مجاز ریویو بورڈ کے سامنے پیش کرنا قانونی طور پر لازمی ہے، جہاں اس کی ذاتی سماعت کی جاتی ہے تاکہ حراست کی توسیع یا رہائی کا فیصلہ کیا جا سکے۔ تاہم بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کو یہ بنیادی آئینی اور انسانی حق بھی نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت آج بھی نوآبادیاتی دور کے جابرانہ قانون ’3 ایم پی او‘ کے تحت قید ہے، جو نہ صرف انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ خود پاکستانی آئین کی روح کے بھی منافی ہے۔
ڈاکٹر صبیحہ نے انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا، اساتذہ، طلباء اور باشعور افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ خاموشی توڑ کر بی وائی سی کی اسیر قیادت کی فوری رہائی کے لیے آواز بلند کریں اور قابض ریاست کی غیر قانونی کاروائیوں کو بے نقاب کریں۔


