تربت (ہمگام نیوز) گشکور سے تعلق رکھنے والے اسکول ٹیچر ایاز احمد کی لاش برآمد ہونے کے بعد ماورائے عدالت قتل۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے مطابق ایاز احمد ولد دوست محمد کو 16 اکتوبر 2025 کو سیکیورٹی فورسز نے گشکور بازار سے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ ایاز احمد کی جبری گمشدگی کے بعد ان کا خاندان کئی ماہ تک شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہا۔ اہلِ خانہ نے مختلف فورمز پر ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم کسی بھی ریاستی ادارے کی جانب سے کوئی جواب فراہم نہیں کیا گیا۔
بی وائی سی کے مطابق 6 جنوری 2026 کو ایاز احمد کی لاش برآمد ہوئی، جس سے خدشات کی تصدیق ہوئی کہ انہیں ریاستی حراست کے دوران ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایاز احمد کا قتل کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ بلوچ عوام کے خلاف جاری منظم جبر کا تسلسل ہے، جس کے تحت اساتذہ، طلبہ اور عام شہریوں کو جبری گمشدگی، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بی وائی سی نے مزید کہا کہ بلوچ نوجوانوں اور اہلِ علم کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا ایک ایسی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد خوف، خاموشی اور اجتماعی سزا کو فروغ دینا ہے، جہاں قانون، انصاف اور انسانی وقار کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
بی وائی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے، ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنائے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔


