تربت (ہمگام نیوز) تجابان کے علاقے کرکی میں ایک نوجوان کی جبری گمشدگی کے خلاف لواحقین اور اہلِ علاقہ سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے سی پیک ایم 8 شاہراہ (تربت تا کوئٹہ) کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔
احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ رحمدل ولد محمد بخش، سکنہ کرکی تجابان کو نامعلوم افراد نے جبری طور پر لاپتہ کیا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان کی بازیابی کے لیے متعدد بار متعلقہ حکام سے رجوع کیا گیا مگر کوئی پیش رفت نہ ہونے پر شاہراہ بلاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق شاہراہ کی بندش کے باعث تربت کا زمینی رابطہ پنجگور اور کوئٹہ سے منقطع ہو گیا ہے جبکہ مسافر بسیں اور مال بردار گاڑیاں دونوں اطراف پھنسی ہوئی ہیں۔
مظاہرین نے بتایا کہ تجابان اور گرد و نواح سے اس سے قبل بھی کئی نوجوان لاپتہ ہو چکے ہیں اور ان واقعات کے خلاف ماضی میں بھی سی پیک ایم 8 پر احتجاجی دھرنے دیے جاتے رہے ہیں، تاہم تاحال کسی مسئلے کا مستقل حل سامنے نہیں آ سکا۔
احتجاج کرنے والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ رحمدل ولد محمد بخش کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے، بصورت دیگر دھرنا غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔


