تربت ( ہمگام نیوز ) یونیورسٹی کے لیکچرار بالاچ بالی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے بعد جمعہ کو بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے۔
انہیں بدھ کی شام یونیورسٹی سے گھر واپس جاتے ہوئے آپسر میں پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ بالاچ بالی کی جبری گمشدگی کے خلاف تربت یونیورسٹی کے طلبہ اور اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے یونیورسٹی میں ریلی نکالی تھی، جبکہ کلاسوں کے بائیکاٹ کے ساتھ دو روز سے دھرنا بھی جاری تھا۔
علاوہ ازیں شال میں نوجوان طالبعلم کی مبینہ جبری گمشدگی کا واقعہ رپورٹ،
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک اطلاع کے مطابق 20 سالہ شہزاد منیر، جو یونیورسٹی آف بلوچستان کے چوتھے سمسٹر کے طالبعلم بتائے جاتے ہیں، کو مبینہ طور پر 5 دسمبر 2025 کی رات 2 بجے سبزل روڈ، شال سے لاپتا کیا گیا ہے۔
لواحقین اور بی وائی سی کے مطابق شہزاد منیر کا تعلق کیچ کے علاقے ہیرونک سے ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی گمشدگی میں متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔
واقعے نے علاقے میں تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے، جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ دہراتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دریں اثناء جھل مگسی سکلیجی کے علاقے سے 5 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات،
زرائع کے مطابق گاجان شوران واٹر چینل کی بندش کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے سکلیجی جانے والے افراد کو مسلح افراد نے اغوا کرلیا ،انکا پیچھا کرنے والے افراد پر مسلح افراد نے فائرنگ کرکے انھیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کرکے انھیں نامعلوم مقام لے گئے۔


