تفتان(ہمگام نیوز ) تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آج 13 اکتوبر کی صبح ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر تفتان کے علاقے چاہ احمد میں ہونے والی شدید جھڑپ کے دوران قابض ایرانی حکومت کے حمایت یافتہ افغان شیعہ ملیشیا، لشکر فاطمیون، کے 20 سے زائد اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، مقامی ذرائع اور عینی شاہدین نے بتایا کہ جھڑپ کا آغاز صبح تقریباً 6 بجے چاہ احمد اور ارزن تاک کے علاقوں میں واقع کوہ سیاہ لوپ کی پہاڑیوں کے قریب ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق، فاطمیون کے اہلکاروں پر مشتمل تقریباً 18 موٹر سائیکلوں کا ایک قافلہ سرکال قلعہ بید کے فوجی اڈے سے روانہ ہو کر علاقے میں پہنچا تھا۔
مقامی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علاقے میں پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے اس قافلے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں فاطمیون کے 20 سے زائد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق، بعد ازاں متعدد لاشوں اور زخمیوں کو فوجی گاڑیوں کے ذریعے جائے وقوعہ سے منتقل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، جھڑپ کے بعد تقریباً 40 سے زائد گاڑیوں پر مشتمل فوجی کمک علاقے میں روانہ کی گئی۔ اس دوران جنگی اور نگرانی کرنے والے ڈرونز بھی فضا میں دیکھے گئے، جن کی آوازیں مقامی آبادی نے سنی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق، بعض مسلح افراد کے علاقے سے نکل جانے کے بعد فوجی کمک نے پہاڑی علاقوں کی جانب مارٹر گولوں اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ گولہ باری بلاامتیاز کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں میں فاطمیون کے اہلکاروں کو ہونے والے مبینہ بھاری جانی نقصان کے باوجود ایرانی سرکاری میڈیا نے ان کی شناخت یا ملیشیا سے وابستگی کا ذکر نہیں کیا اور صرف تین مسلح افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی۔
اس سے قبل بھی مقامی آزاد ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ تفتان کے علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران فوجی اہلکاروں اور مسلح افراد کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی حتمی تعداد کی تصدیق کے لیے معلومات جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے یہ رپورٹ ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ہے۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق تاحال
سامنے نہیں آئی۔


