یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںتیرہ نومبر کوبلوچستان سمیت دنیا بھر میں یوم شہدا کی مناسبت سے...

تیرہ نومبر کوبلوچستان سمیت دنیا بھر میں یوم شہدا کی مناسبت سے اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا: بلوچ شہداء کمیٹی

کوئٹہ ( ہمگام نیوز) بلوچ شہداء کمیٹی کے ترجمان نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی بلوچ شہداء کمیٹی بلوچستان سمیت دنیا بھر میں 13 نومبر کے دن یومِ بلوچ شہداء عقیدت و احترام کے ساتھ بھر پور طریقے سے منائے گی انہو ں نے کہا ہے کہ بلوچ قومی تحریک ایک آزاد اور خوشحال بلوچ سماج تشکیل دینے کیلئے جاری تحریک ہے ، ایک ایسا سماج جہاں بلوچ اپنے قسمت کا مالک خود بن کر اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرسکیں تاکہ وہ دنیا کے باقی آزاد انسانوں و قوموں کے برابر ہوکر انکی ہمسری کرسکیں اور قومی حوالے سے سیاسی ، سماجی اور معاشی طور پر ترقی کے ان تمام مواقعوں کا حقدار بنیں جو کسی بھی آزاد قوم کا بنیادی حق ہوتے ہیں ، بلوچ قوم آج نا صرف اپنے آزاد حیثیت ، ساحل اور وسائل سے محروم ہے بلکہ اسے اپنے قسمت کا فیصلہ خود کرنے کی بھی آزادی حاصل نہیں جس کی وجہ سے آج بلوچ قوم زندگی کے ہر میدان میں انتہائی پسماندگی کا شکار ہے ، یہ پسماندگی بلا واستہ طور پر بلوچ قوم کی طویل غلامی سے نتھی ہے اس غلامی کا آغاز 13 نومبر 1839 کو بلوچستان پر انگریز راج کے ناجائز جبری قبضے سے شروع ہوا جو بعد میں طوالت اختیار کرتے ہوئے بلوچستان سے پاکستان کے جبری الحاق اور بعد میں آج تک جاری طویل قبضے کی صورت تک جا پہنچا ، لیکن انگریز قبضے سے شروع ہونے والے بلوچ غلامی کے پہلے دن سے لیکر آج تک بلوچ کبھی نا غلامی کے سامنے سر خم تسلیم ہوئے اور نا ہی اپنے وطن کے آزادی کے بحالی سے دستبردار ہوئے ، ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے پر محیط اس غلامی کے خلاف اور دنیا کے دوسرے آزاد قوموں کی طرح ایک آزاد اور با وقار زندگی گذارنے کیلئے بلوچ مسلسل جدوجہد کرتے رہے ہیں جو آج تک جاری ہے ۔ ایک آزاد قوم اور انسان بننے کے امنگوں کو قوم کے دل میں زندہ رکھنے اور اس آزادی کو حاصل کرنے کیلئے ہزاروں بلوچ پیر و ورنا ، مرد و زن اور بچوں نے اپنے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ، اس جدوجہد کو جاری رکھنے اور اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہزاروں فرزندوں نے اپنی جوانیاں قربان کرکے موت کو سینے سے لگایا ۔ شہادتوں کا جو سلسلہ 13 نومبر 1839 کو خان محراب خان سے شروع ہوا تھا وہ نسل در نسل منتقل ہوتے ہوئے آج تک اپنے تمام رعنائیوں اور جوش و جذبے کے ساتھ زندہ ہے ، غلامی کے اس طوالت نے نا آزادی کے امنگ کو بلوچ قوم کے شعور سے مٹانے میں کامیاب ہوا اور نا ہی یہ شہادت کے جذبوں کو معدوم کرسکا، یہ ان شہید بلوچوں کے قربانیوں کا ہی وسیلہ ہے کہ اس ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے کے غلامی کے باوجود بلوچ قوم کئی اور غلام قوموں کی طرح معدوم ہونے کے بجائے ایک وجود اور پہچان رکھتی ہے ، گوکہ بلوچوں کو اپنے سر زمین پر اختیار نہیں لیکن آج یہ سر زمین اس کے نام سے ہی پہچانی جاتی ہے ، یہ ان شہداء کے عظیم قربانیوں کا ہی برکت ہے کہ انسانیت سوز شدید ترین ریاستی بربریت کے باوجود بلوچ قوم کے آزادی ، خوشحالی اور برابری کی تحریک مکمل توانا طور پر جاری ہے ،بلوچ وہ قوم ہے جس میں ایک گلاس ٹھنڈے پانی کی قیمت سو سال وفا ہے تو پھر بلوچ اپنے ان شہداء جنہوں نے ہماری آزادی کیلئے اپنی جانیں تک قربان کردیں انہیں کیسے بھول سکتا ہے ۔ اسی لیئے اپنے ان محسن شہداء کو تاقیامت یاد رکھنے ، انہیں خراج تحسین پیش کرنے اور ان سے تجدید عہد کرنے کیلئے بلوچ قوم ہر سال 13 نومبر کو یوم شہداء بلوچ کے طور پر عظیم و الشان طریقے سے مناتی ہے ، اس سال بھی بلوچ شہداء کمیٹی اس دن کے مناسبت سے مختلف پروگرام منعقد کرے گی ترجمان نے مزید کہا ہے کہ 13 نومبر 2015 کے دن بلوچ شہداء کمیٹی بلوچستان کے مختلف علاقوں جن میں کوئٹہ ، قلات ،تربت سمیت کراچی اور اسکے علاوہ برطانیہ ، جرمنی ، سویڈن، جنوبی کوریا سمیت دنیا بھر میں بلوچ شہداء کی یاد میں اجتماعات ، سیمینار اور ریلیاں منعقد کرے گی اور بلوچستان بھر میں شہداء کی یاد میں چراغاں کیا جائے گا ۔ ترجمان نے مزید کہا ہے کہ ہم ہر ایک بلوچ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قوم کے ان محسن شہداء کے یادوں کو زندہ رکھنے اور ان کے مقصد سے تجدید عہد کرنے کیلئے نا صرف بلوچ شہداء کمیٹی کے منعقدہ پروگراموں میں بھرپور شرکت کریں بلکہ ہر شہر اور گاوں میں از خود اجتماعات منعقد کریں اور شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کرکے چراغاں کریں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز