Homeخبریںجبهہ مبارزین مردمی کا گلشن، کنارک اور سراوان میں تین مسلح حملوں...

جبهہ مبارزین مردمی کا گلشن، کنارک اور سراوان میں تین مسلح حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان، متعدد اہلکار ہلاک

زاہدان (ہمگام نیوز) جبهہ مبارزین مردمی نے دو الگ الگ بیانات جاری کرتے ہوئے بلوچستان کے علاقوں گلشن، کنرک اور سراوان میں 2 اور 3 نومبر 2026 کو ہونے والے تین مسلح حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ تنظیم نے ان حملوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب، فاطمیون سے وابستہ جنگجوؤں اور اپنے ایک رکن کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، جبهہ مبارزین مردمی نے اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ پیر 2 نومبر 2026 کو ضلع گلشن کے علاقے کلگان میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر اور ان کے ساتھیوں کو مسلح حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کا کمانڈر اور اس کے تین ساتھی ہلاک ہوگئے۔

تنظیم نے مزید دعویٰ کیا کہ اسی روز شام کے وقت کنرک کے علاقے کہیر کے گاؤں بیر سفلی میں ایک سرکاری اسکول میں تعینات فاطمیون ملیشیا سے وابستہ اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم کے مطابق، اس مقام پر ہونے والی جھڑپ کے دوران فاطمیون کے چھ اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ جبهہ مبارزین مردمی کا ایک رکن بھی مارا گیا۔

جبهہ مبارزین مردمی نے اپنے دوسرے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ منگل 3 نومبر 2026 کی صبح سراوان شہر میں فراجا (ایرانی پولیس فورس) کے اسپیشل یونٹ کے ایک فیلڈ کمانڈر کو مسلح حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم نے مذکورہ افسر کو شہریوں کے خلاف کارروائیوں اور کریک ڈاؤن میں ملوث قرار دیا ہے، تاہم اس حملے میں ان کی ہلاکت یا زخمی ہونے سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

تنظیم نے اپنے پہلے بیان کے ایک حصے میں افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی حکام پر دباؤ ڈالیں تاکہ ان ممالک کے شہریوں کو بلوچستان اور ایران کے دیگر علاقوں میں شہریوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے سے روکا جاسکے۔

جبهہ مبارزین مردمی نے اپنے دوسرے بیان میں فوجی اور پولیس اہلکاروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کے خلاف کارروائیوں اور حکومت مخالف افراد پر حملوں میں حصہ لینے والے اہلکار خود کو تنظیم کے حملوں کے خطرے سے دوچار کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل الگ الگ رپورٹس میں گلشن کے علاقے کلگان میں پاسدارانِ انقلاب کی گاڑی پر مسلح حملے، کنرک کے گاؤں بیر سفلی میں فاطمیون سے وابستہ اہلکاروں کی موجودگی والے اسکول پر حملے اور سراوان میں آزاد یونیورسٹی اور گورنر آفس کے قریب ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات دی تھیں۔

 سابقہ رپورٹس کے مطابق، گلشن حملے میں دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا، جبکہ کنارک میں جھڑپ کے دوران فاطمیون کے کم از کم سات اہلکار اور ایک مسلح شخص ہلاک ہوئے تھے۔ اسی طرح سراوان میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی

گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز