لندن (ہمگام نیوزڈیسک) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق مشرق وسطی کے کشیدہ سیاسی صورتحال بارے اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ایران کے جوہری میزائل یورپی ممالک کی سرزمین پر نہیں گریں گے تب تک وہ نیند سے بیدار نہیں ہوں گے۔ بعدازاں یورپی یورپی ممالک کے خارجہ پالیسی کے چیف فریڈیکا موگیرنی نے کہا کہ وزرائے خارجہ کے نزدیک ایران نے جوہری معاہدے کے خلاف سنگین ورزی نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ وزرا خارجہ جوہری معاہدے کے آرٹیکل 36 کو نافذالعمل نہیں سمجھتے۔
واضح رہے جوہری معاہدے کے آرٹیکل 36 میں معاہدے کے خلاف ورزی کی صورت میں ایران پر کڑی اقتصادی پابندیوں کا ذکر ہے۔
وزرائے خارجہ کے بیان پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو غصے میں آکرانہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’یہ بالکل ایسا ہے کہ ایک شخص اپنا سر ریت میں چھپا لے اور خطرے کو نظر انداز کردے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ چند لوگو یورپ میں ایسے ہیں جو یورپی سرزمین پر ایرانی جوہری میزائل گرنے پر اپنی آنکھ کھولیں گے اور تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی‘۔
بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ’ہم ہر صورت میں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکیں گے‘۔
خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے مابین جوہری معاہدے کا تنازع طویل عرصے سے جاری ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے جوہری معاہدہ منسوخ کیے جانے کے بعد تہران پر متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کردی گئی تھیں، تاہم ایران کو معاہدے کے دو نکات پر تجارتی استثنیٰ حاصل تھا۔یاد رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے اعلان اور ایران پر پابندی کے دوبارہ نفاذ کے بعد ایرانی معیشت بحران کا شکار ہوگئی ہے، جس سے دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔


