تہران (ھمگام نیوز) رپورٹ کے مطابق، اتوار 8 مارچ 2026 کو تہران کے گورنر نے اعلان کیا ہے کہ ایندھن کی تقسیم کے نظام کے بعض حصوں کو نقصان پہنچنے کے باعث تہران کے پٹرول پمپوں پر ذاتی کارڈ کے ذریعے ایندھن حاصل کرنے کی حد کو عارضی طور پر 30 لیٹر سے کم کرکے 20 لیٹر کر دیا گیا ہے۔

تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شہری آمد و رفت کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے تہران میٹرو کو 24 گھنٹے اور مفت شہریوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ رکاوٹوں کے باوجود ملک میں ایندھن کے ذخائر کافی ہیں اور متعلقہ ادارے تقسیم کے نظام کے متاثرہ حصوں کی مرمت میں مصروف ہیں۔

تاہم ایندھن کی فراہمی میں کمی اور تقسیم کے نظام میں رکاوٹیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حالیہ جنگ اور حملے کس طرح آہستہ آہستہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایندھن تک محدود رسائی، عوامی ٹرانسپورٹ پر بڑھتا ہوا دباؤ اور شہری خدمات کے تسلسل سے متعلق خدشات ان مسائل میں شامل ہیں جن کا سامنا شہریوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ تہران میٹرو معمول کے حالات میں بھی کوچز کی کمی، شدید رش اور خدمات کی محدودیت جیسے مسائل کا شکار رہی ہے۔ اب جب کہ اسے مفت اور چوبیس گھنٹے فعال کر دیا گیا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ نظام مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کس حد تک سنبھال سکے گا۔

دوسری جانب ذرائع نے اس سے پہلے اپنی رپورٹوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایندھن کی قلت کی نشاندہی کر چکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے بعض علاقوں میں ایندھن کی فراہمی کے مسائل پہلے سے موجود تھے اور حالیہ بحران کے بعد یہ مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔