سراوان (ہمگام نیوز) 23 ستمبر 2026 کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر سراوان کے علاقے جهادآباد، جسے مقامی طور پر ’’داب‘‘ کہا جاتا ہے، میں قابص ایرانی سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید مسلح جھڑپ جاری رہی۔ ایرانی حکام اور پاسداران انقلاب سے وابستہ ہیڈکوارٹر قدس کے مطابق جھڑپ میں پانچ مسلح افراد اور ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
مقبوضہ بلوچستان کے نائب سکیورٹی و انتظامی امور کے گورنر نے ابتدائی طور پر تین مسلح افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اور انہیں ایک ’’ٹیم‘‘ کے ارکان قرار دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں قدس ہیڈکوارٹر زمینی فورسز سپاہ نے اپنے بیان میں ہلاک ہونے والے مسلح افراد کی تعداد پانچ بتائی اور ایک اہلکار کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی۔
قدس ہیڈکوارٹر کے مطابق یہ کارروائی سپاہ پاسداران، صوبائی محکمہ اطلاعات اور پولیس کے درمیان ایک مشترکہ آپریشن کے دوران کی گئی، جس میں پانچ مسلح افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ قابض ایرانی سکیورٹی ادارے نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق جھڑپ کا آغاز تقریباً 14:10 بجے ہوا اور اس کے بعد فائرنگ اور دھماکوں کی شدت میں اضافہ ہوا۔ علاقے کے رہائشیوں نے آر پی جی سمیت بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دی۔
ذرائع کے مطابق قابض فورسز نے جھڑپ کے مقام پر ایک لودر مشین پہنچا کر مکان کے اطراف اور بعض دیواروں کو منہدم کیا۔ بعد ازاں ذرائع نے دعویٰ کیا کہ جهادآباد کی شوشترى 8 اسٹریٹ میں واقع اس مکان کو، جو جھڑپ کا مرکزی مقام بتایا جا رہا ہے، سکیورٹی فورسز نے آگ لگا دی۔ ذرائع کے مطابق مکان کے اطراف مبینہ طور پر پٹرول چھڑکنے کے بعد اسے نذرِ آتش کیا گیا۔
علاقے میں ایک ڈرون کی پرواز اور نگرانی کی بھی اطلاع ہے، جبکہ فوجی، سکیورٹی اور سادہ لباس اہلکار بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔ جھڑپ کے مقام کی جانب جانے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور سراوان شہر اور اطراف میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ جھڑپ ایک مبینہ ’’ٹیم ہاؤس‘‘ پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد شروع ہوئی۔ تاہم ہلاک ہونے والے مسلح افراد اور گرفتار افراد کی شناخت ابھی سامنے نہیں لائی گئی۔
جھڑپ اور ہلاکتوں کے حوالے سے سرکاری بیانات میں بھی فرق سامنے آیا ہے۔ ابتدائی طور پر صوبائی نائب گورنر نے تین مسلح افراد کی ہلاکت بتائی، جبکہ بعد میں قرارگاہ قدس نے تعداد پانچ بتائی اور ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے جانی نقصان کی مزید آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
جھڑپ کی مکمل صورتحال، ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت اور گرفتار افراد کی تعداد کے بارے میں مزید اطلاعات سامنے آنا باقی ہے۔


