جمعه, اپریل 4, 2025
Homeخبریںجیب کترا پاکستان ایک بار پھر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جنیوا...

جیب کترا پاکستان ایک بار پھر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جنیوا میں منعقد مہاجرین کے نام پر پیسہ بٹورنے نکل پڑے

جنیوا ( ہمگام نیوز ) ہمگام نیوز کو  ملنے والی خبر کے مطابق پاکستان کے کٹھ پتلی وزیر اعظم عمران خان بحرین کے بعد سوئیٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔ جہاں وہ اقوام متحدہ کی جانب سے نئی قائم کردہ GRF Global Refugee Forum یعنی مہاجرین کی عالمی فورم کے نام سے پہلی بار ایک ادارہ قائم کیا جارہا ہے جس سے عمران خان بھی خطاب کرکے افغان مہاجرین کے نام پر ملنے والے امداد کو کیش کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے۔

پاکستانی زرخرید میڈیا پاکستان کی اس عالمی فورم میں شرکت کے خبر کو بڑے فخر سے پبلش کررہے ہیں۔ پنجابی میڈیا افغانستان میں آئی ایس آئی کی جاری دہشت گردی اور اس فساد سے لاکھوں افغانوں کی ملک بدری اور مہاجرت میں پاکستان کے کردار سے توجہ ہٹانے کی غرض سے اس فورم میں عمران خان افغانوں کا مہمان و مسیحا بننے کا تاثر دیں گے۔
یاد رہے نائن الیون سے پہلے سویت یونین کے وقت پاکستانی فوج ہی نے لاکھوں افغان مجاہدین کو پاکستان میں بلاکر ان کو روس کے خلاف افغانستان میں جعلی جہاد میں جھونک کر پنجاب کی مفادات کا بھر پور تحفظ کیا تھا ،
اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر نیویارک امریکی سرزمین پر حملے کے بعد ایک بار پھر پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھی ہونے کا ناٹک کرتے ہوئے پھر سے طالبان جنگجووں اور القاعدہ کی اعلی قیادت کو پاکستان منتقل کرکے افغان جنگ کو دانستہ طور پر طول دینے کا منصوبہ بنایا اس کے ساتھ , ساتھ افغان مہاجرین کے نام پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی  فلاحی اداروں سے امداد بٹور کر اپنی معیشت کو سہارا دی ، لیکن یہ بات کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ افغانوں کا قاتل پنجابی فوج اور حکمران اب مسیحا بن کر افغان مہاجرین کے نام پر پیسہ بٹورنے ایک بار پھر دنیا کو بے وقوف بنانے جارہے ہے۔
افغان عوام اس بار پرزور مطالبہ کررہے ہیں کہ پاکستان کے باتھوں میں بھروسہ نہیں کرنی چاہیے اور خطے میں فساد کی جڑ پاکستان کو  عالمی برادری کی جانب ایک پیسہ بھی دینے کی کوئی جواز نہیں بنتا۔

واضع رہے پاکستانی فوج کے ہاتھوں ہزاروں کے حساب سے بلوچ مہاجرین اپنے وطن سے ہجرت کرکے دربدر اور ٹھوکر کی زندگی گزارنے پر مجبور بے۔جنھیں بے یارو مدد گار مختلف ممالک کے شہروں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا ہیں، جہاں انھیں کئی سے کوئی امداد نہیں دی جارہی ۔
اور اقوام متحدہ جنگ زدہ بلوچستان سے مہاجرت کی زندگی پر مجبور ہزاروں بلوچ مہاجرین کو ابھی تک مہاجر تسلیم کرنے سے بھی کترارہی ہے جو اقوام متحدہ کی غیرجانبداری اور فلاحی کاموں کے دعووں پر ایک بہت بڑی سوالیہ نشان کھینچنے کا سبب بنتا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز