یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںداعش کے آخری جنگجو کی ہلاکت تک جنگ لڑی جائے گی:القاعدہ

داعش کے آخری جنگجو کی ہلاکت تک جنگ لڑی جائے گی:القاعدہ

بنغازی( ہمگام نیوز)مشرقی لیبیا میں دہشت گرد تنظیم داعش اور القاعدہ میں شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں، دونوں جانب سے بھاری اسلحے کا استعمال کیا جارہاہے ، داعش جنگجوؤں نے 88 غیر ملکی مسیحیوں کو اغوا کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق مشرقی لیبیا کے قصبہ درنا میں داعش جنگجوؤں نے چند روز قبل حملہ کر کے القاعدہ کی مقامی تنظیم کے ایک کمانڈر نصر کو ساتھی سمیت قتل کر دیا تھا، جس کے بعد دونوں تنظیموں میں شدید جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ داعش نے القاعدہ کمانڈر کو کیوں قتل کیا۔یاد رہے کہ 55 سالہ نصر کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزامات میں برطانیہ میں قید کی سزا بھی ہو چکی ہے ۔ فریقین ایک دوسرے کے خلاف بھاری اسلحے کا استعمال بھی کر رہے ہیں جبکہ کئی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق جھڑپوں میں داعش کے 9 جنگجو مارے جا چکے ہیں۔یاد رہے کہ داعش نے قصبہ درنا پر گزشتہ سال قبضہ کر لیا تھا۔دو روز قبل القاعدہ نے داعش کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ داعش لاقانونیت اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے اور اس کے خلاف اس وقت تک جنگ لڑی جائے گی جب تک کہ اس کا آخری جنگجو بھی نہ مارا جائے ۔القاعدہ ترجمان نے مقامی افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ دہشت گرد گروپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔دوسری جانب داعش نے 88 غیرملکی مسیحیوں کو اغوا کر لیا ہے۔ ان افرادکا تعلق اریٹیریا سے بتایا جاتا ہے ۔امریکی حکام نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ داعش جنگجوؤں نے گزشتہ ہفتے ان افراد کو اغوا کیا۔یہ افراد ایک قافلے کا حصہ تھے جسے انسانی اسمگلرز لے کر جا رہے تھے اور دارالحکومت کے شمالی مضافاتی علاقے میں جنگجوؤں نے حملہ کر کے مسیحیوں کو اغوا کر لیا۔ تاہم یہ پتا نہیں چل سکا کہ انسانی اسمگلرز ان افراد کوکہاں لے جا رہے تھے ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز