دالبندین (ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان کے معدنی دولت سے مالا مال ضلع چاغی کے شہر دالبندین میں سیندک پروجیکٹ میں کام کرنے والے چائینیز انجینئرز کے بس اور ان کی حفاظت پر مامور ایف سی کے اہلکاروں پر بلوچ سرمچار کا بارود سے بھری گاڑی سے فدائی حملہ، اب تک کی اطلاعات کے مطابق ، 13افراد زخمی ہوگئے ، ہلاکتوں کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چائنیز انجینئرز کی بس کو آر سی ڈی شاہراہ پر ایئر پورٹ کے قریب اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ دالبندین سے سیندک جارہے تھے جس کے نتیجے میں ملازمین کی بس کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔جبکہ بارود سے بھری ایرانی ساخت گاڑی سایپا زامیاد جسے مقامی طور ایران باڈر سے تیل کے کاروبار کے طور استعمال کرتے ہے مکمل تباہ ہوگئی۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق دھماکے کا نشانہ بننے والی بس سیندک منصوبے کے ملازمین کو لے کر دالبندین ایئرپورٹ کی طرف جارہی تھی کہ دالبندین سے قریبا 5 کلومیٹر دوری کے فاصلے پر ایک خودکش حملہ آور نے اپنی گاڑی کو چاہنیز انجینئرز کے بس سے ٹھکرا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا ۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکے میں 13ملازمین زخمی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، زخمیوں میں سیندک پروجیکٹ کے 5 غیر ملکی ملازمین اور 5 ایف سی اہلکار اور بس کے ڈرائیور بھی شامل ہیں،زخمیوں کودالبندین کے مقامی ہسپتال شیخ زید میں منتقل کیا گیا،جہاں ان کی علاج کی جارہی ہیں۔


