دکی ( ہمگام نیوز ) دکی میں کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے کے باعث تین کان کن مزدور ھلاک ہوگئے۔
ھلاک مزدوروں میں خان ولد پائی محمد، قوم بارکزئی، سراج الدین ولد فتح محمد، قوم اچکزئی، اور عبداللہ، قوم علیزئی، ساکن افغانستان شامل ہیں۔
واقعے پر پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان، ضلع دکی کے صدر شیر محمد کاکڑ نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حادثے کی ذمہ داری حکومت اور محکمۂ معدنیات پر عائد کی ہے۔
شیر محمد کاکڑ نے کہا ہےکہ کان کنی کے شعبے میں حادثات کی روک تھام اور مزدوروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث آئے روز کان کن جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئلہ کانوں کی ابتر صورتحال کے ساتھ ساتھ کانوں کے اندر بھی مزدوروں کو مناسب حفاظتی سہولیات میسر نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کی غفلت اور ناقص نگرانی کے باعث مزدوروں کے جنازے اٹھ رہے ہیں، مگر انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جارہے۔
کان کن رہنماء نے مطالبہ کیا ہےکہ کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات یقینی بنائے جائیں، مزدوروں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور حادثے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔


