سنندج ( ہمگام نیوز ) 2023 کے پہلے تین مہینوں کے دوران ایرانی جیلوں میں 48 کرد قیدیوں کو پھانسی دی گئی، جن میں سے تین سیاسی قیدی تھے، اور اس تعداد میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 270 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

 انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاؤ کے شماریات اور دستاویزات کے مرکز میں رجسٹرڈ اعدادوشمار کی بنیاد پر، 2023 کے پہلے تین مہینوں (جنوری، فروری اور مارچ) کے دوران کردستان اور ایران کے دیگر شہروں کی جیلوں میں 48 کرد قیدیوں کو پھانسی دی گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار گزشتہ تین ماہ کے دوران ایران میں دی جانے والی پھانسیوں کی کل تعداد کے 34 فیصد کے برابر ہے۔

 یہ اعدادوشمار گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 270 فیصد بڑھے ہیں، جب 13 کرد قیدیوں کو پھانسی دی گئی تھی۔ ہنگاؤ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت نے ژینا انقلاب ( مہسا امینی کی ریاستی قتل کے بعد )کی وجہ سے کردستان کے خلاف دہشت اور انتقام پیدا کرنے کے لیے خاص طور پر ایران کے مرکزی شہروں کی جیلوں میں کرد شہریوں کی سزائے موت میں اضافہ کیا ہے ۔

 واضح رہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران کرج، کرمانشاہ اور ارومیا کی جیلوں میں بیجار سے سید محمد کرمی، راوانسر سے سرکوت احمدی اور اشنویہ (شنو) سے محی الدین ابراہیمی نامی تین کرد قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔

 اس عرصے کے دوران کرج جیلوں میں 10 کرد قیدیوں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ چار کرد قیدیوں کو اراک اور دو قیدیوں کو ہمدان اور بندر عباس جیلوں میں پھانسی دی گئی۔ کردستان سمیت ایران کی دیگر جیلوں میں 48 کرد قیدیوں کو پھانسی دی گئی ہے۔