کیف(ہمگام نیوز ) روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے گرد و نواح پر رات بھر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حملے کے دوران متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون رہائشی علاقوں، گوداموں اور دیگر شہری تنصیبات پر گرے، جس کے باعث مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔
کیف کی فوجی انتظامیہ کے مطابق دارالحکومت میں ایک خاتون جان کی بازی ہار گئی جبکہ کم از کم 24 افراد زخمی ہوئے۔ حملوں کے باعث شہر کے چار مختلف اضلاع میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے اور کئی رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب کیف کے گرد و نواح کے علاقوں میں روسی حملوں کے نتیجے میں مزید 14 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔ کیف ریجن کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے کہا کہ یہ حالیہ مہینوں کے سب سے تباہ کن حملوں میں سے ایک تھا۔
یوکرینی حکام نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر شہری آبادی اور سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ہر ایسے حملے پر روس کو ایک دن جوابدہ ہونا پڑے گا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب روس اور یوکرین کے درمیان طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی کے دوران روس نے یوکرین پر داغے جانے والے میزائلوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا۔
ادھر روسی حکام نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے ماسکو اور دیگر علاقوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ ماسکو کے میئر کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے دارالحکومت کی جانب آنے والے کم از کم 10 یوکرینی ڈرون تباہ کر دیے، جبکہ تولا ریجن میں 107 ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
یوکرین نے اس دوران روس پر ایک اور سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ خیرسون شہر میں ایک شہری کا ڈرون کے ذریعے تعاقب کیا گیا، جسے یوکرینی حکام نے عام شہریوں کے خلاف “منظم شکار” قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مبصرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ یوکرین میں شہری ہلاکتوں کی تعداد فروری 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ رہی ہے۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک بار پھر اپنے مغربی اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کو مزید پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام اور بیلسٹک میزائل روکنے والے انٹرسیپٹر فراہم کریں تاکہ روسی حملوں سے شہری آبادی کا مؤثر تحفظ کیا جا سکے۔















