یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںسانحہ 8اگست،بلوچ ،پشتون وکلا کی شہادت انسانی تاریخ میں قوموں کی نسل...

سانحہ 8اگست،بلوچ ،پشتون وکلا کی شہادت انسانی تاریخ میں قوموں کی نسل کشی کے دن کے طور پر یاد رکھا جائیگا:بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر صادق رئیسانی

کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر صادق رئیسانی ایڈوکیٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 8اگست2016 کو پیش آنے والے خونی سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ کے خودکش حملے کا واقعہ انسانی تاریخ میں بلوچ ،پشتون قوم کی نسل کشی کے طور پر یاد رکھا جائیگا

۔جس میں بلوچستان کے مظلوم و محکوم اقوام کیلئے زندگی کے مختلف شعبوں میں پیش آنے والے بے انصافیوں کی خاطر داد رسی کیلئے انصاف کی قانونی جنگ لڑنے والے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت و پروفیشنل افراد جن کا تعلق جوڈیشری سے تھا،جو کہ ہمیشہ سے دشمن ریاست کی آنکھ میں کھٹکتے رہے ،جنھیں دشمن ریاست نے اپنے پالے ہوئے خونخوار پالتو مزہبی درندوں کے زریعئے خفیہ انٹیلی جنس کے ہاتھوں بے رحمی سے بلوچ پشتون وکلا کو نشانہ بنا کر 75 افراد جن میں اکثریت بلوچ،پشتون وکلا کی تھی کو شہید کروایا۔ ان قاتلوں نے اہل بلوچستان کو ایک منظم منصوبہ بندی کے زریعئے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

ویسے تو بلوچستان کئی عرصے سے جل رہا تھا مگر ہمارے ساتھ، ساتھ محکوم پشتون قوم کے زہین و باصلاحیت افراد کو بھی بڑی بے رحمی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، جس کی ہم ہر فورم پر پرزور مزمت کرتے رہینگے ۔

اہل بلوچستان کو سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ ہمیشہ کیلئے ایک سیاہ دن اور ریاستی سرپرستی میں بلوچ پشتون قوم کی نسل کشی کے طور پر یاد رہے گا، 3 سال قبل خودکش دھماکے میں وکلا ء کی اتنی بڑی تعداد میں شہادت نا قابل تلافی نقصان ہے .

بلوچستان گزشتہ 2دہائیوں سے خصوصی طور اور 70 سالوں سے عمومی طور پر منظم منصوبے کے تحت کشت خون کے بازار کو گرم رکھا گیا ہے۔تاکہ یہاں معروضی مسائل پیدا کرکے قوموں کو الجھا کے بلوچ قومی نجات کی سفر کو مشکل بنایا جا سکے۔

ماضی میں بلوچستان اور خصوصا کوئٹہ کو فرقہ واریت و ڈالروں کے بدلے دہشتگردی کے نام پر مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا۔

بلوچ قوم انھی مظالم اور ناانصافیوں سے دائمی طور پر چھٹکارا پانے کیلئے روز بروز اپنی قومی آزادی کی تحریک میں شدت لارہا ہے تاکہ ان تمام انصافیوں اور مظالم سے ہمیں دائمی طور پر نجات مل سکے۔

لہذا بلوچستان میں رہنے والے دوسرے اقوام کی اخلاقی و سیاسی فرض بنتا یے کہ وہ انسانیت کے طور پر بلوچ قومی آزادی کی تحریک کی ہر ممکن حد تک حمایت کرے۔ تاکہ آنے والے دنوں میں ہم سب اس سرزمین پر امن و عزت کے ساتھ رہ سکے۔ اورہم سب کو قومی آزادی کے لیے اپنا کردار بہتر انداز میں ایمانداری سے اداکرنا چائیے ،تب ہی ممکن ہوگا کہ بلوچ وطن میں آج اور آنے والا دن نئی نسل کیلئے محفوظ ہو سکے ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز