اسلام آباد(ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے مہلوکین کی تعداد 1162 ہوگئی ہے۔ملک کے شمال سے آنے والا سیلابی ریلا دریائے سندھ کے بندوں کو توڑتا ہوا ضلع دادومیں داخل ہوچکا ہے اور وہاں دس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی یومیہ رپورٹ کے مطابق 14 جون سےاب تک 3500 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں 87افراد زخمی ہوئے ہیں اور27 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق خیرپورناتھن شاہ اور جوہی تعلقہ میں مین نارا ویلی (ایم این وی) نالے میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔یہ دادوشہر سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اگر اس نالے میں پانی کی سطح بڑھتی رہتی ہے تو دادو شہرشدید متاثر ہوگا۔
پاکستان میں رواں سال اگست میں 30 سالہ اوسط کے مقابلے میں قریباً 190 فی صد زیادہ بارش ہوئی ہے جو مجموعی طور پر 390.7 ملی میٹر (15.38 انچ) ہے۔بارشوں کے نتیجے میں سیلاب سے صوبہ سندھ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا اور 30 سالہ اوسط سے 466 فی صد زیادہ بارش ہوئی ہے۔
ملک کے شمال میں پہاڑوں سے شروع ہونے والا سیلاب ہزاروں مکانوں، کاروباری اداروں، بنیادی ڈھانچے اور فصلوں کو بہا لے گیاہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 22 کروڑافراد پر مشتمل کل آبادی میں سے تین کروڑ 30 لاکھ افراد(15 فی صد) متاثر ہوئے ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف کا کے پی کا دورہ
وزیراعظم شہبازشریف نے بدھ کو صوبہ خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کا دورہ کیا ہے۔
سوات کے علاقے کانجو میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم نے قوم کو یقین دلایا کہ فوج اور مقامی انتظامیہ متاثرہ علاقوں کی مدد کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ لاکھوں افراد بے گھرہوچکے ہیں اور سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔حکومت متاثرین کو مالی امداد مہیا کررہی ہے۔اگرچہ مالی امداد سے جانی نقصان کی تلافی نہیں ہوسکتی لیکن سیلاب ہونے والے نقصانات ’’بہت زیادہ‘‘تھے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور سندھ کے لئے 15 ارب روپے کا اعلان کیا ہے۔ میں کے پی کے لیے 10ارب روپے کی گرانٹ کا اعلان کررہا ہوں۔ این ڈی ایم اے اور صوبائی حکومت اس رقم کے استعمال کا فیصلہ کریں گے۔انھوں نے اس بات کا عہد کیا کہ جب تک آخری خاندان آباد نہیں ہوجاتا،وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے رہیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس مشکل وقت میں ترکی، ایران اور متحدہ عرب امارات جیسے متعدد ممالک نے مالی امداد کی پیش کش کی تھی۔ میں نے انھیں یقین دلایا کہ یہ رقم شفاف طریقے سے خرچ کی جائے گی۔
متاثرین کی امداد کے اعلانات
دریں اثنا امریکا نے پاکستان کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے تین کروڑڈالر کی انسانی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے پرنسپل ڈپٹی ترجمان ویدانت پٹیل نے منگل کو روزانہ کی نیوزبریفنگ میں کہا کہ ہم اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور امریکاکو پاکستان کا سب سے بڑا انسانی عطیہ دہندہ ہونے پر فخر ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم پورے پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر افسردہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یو ایس ایڈ (ریاست ہائے متحدہ امریکا کی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی) کے شراکت دار اس فنڈ کو خوراک، غذائیت، کثیرالمقاصد نقد رقم، محفوظ پانی، بہتر صفائی ستھرائی،حفظان صحت اور پناہ گاہوں کی معاونت کے لیے ترجیحی طورپراستعمال کریں گے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے مالی امداد پر امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر المیہ رونماہوا ہے جس میں لاکھوں افراد شدید متاثر ہوئے ہیں اور ہمیں دکھی انسانیت کی مدد کے لیے دنیا بھر میں اپنے دوستوں کی ضرورت ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے بھی پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے30 لاکھ ڈالر کی گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔بینک نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ اس گرانٹ سے ملک بھر میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے خوراک کی فراہمی،خیموں اور دیگر امدادی سامان کی فوری خریداری میں مدد ملے گی۔
پاکستان میں بینک کے کنٹری ڈائریکٹر یونگ یے نے ایک بیان میں کہا کہ’’ہماری ٹیم سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے میں بھی مدد کر رہی ہے تاکہ طویل مدتی بحالی کی کوششوں میں مدد دینے اور آبادیوں کی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کومستحکم کرنے کے منصوبے تیار کیے جا سکیں‘‘۔