دمشق (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق شام پر اسرائیل کی جانب سے کئے جانے والے فضائی حملے میں 23 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیل نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جنگی جہازوں نے آج بروز بدھ شام پر ایک “بہت شدید” فضائی حملہ کیا ہے جہاں ایرانی القدس اور شامی فوج کے ٹھکانوں کو بمباری کرکے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 23 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
اسرائیلی آرمی نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے درجنوں فضائی حملے کرکے ایرانی القدس اور شامی آرمی کو نشانہ بنایا جو ایک دن پہلے اسرائیل پر داغے گئے چار راکٹ حملوں کا رد عمل تھا۔
برطانیہ میں موجود ایک مانیٹرنگ گروپ “سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائیٹس “ (SOHR) نے کہا کہ حملے میں 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 21 جنگجو اور دو دیگر عام شہری شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد میں 16 غیر مقامی ہیں۔
یاد رہے ایران شامی آٹھ سالہ خانہ جنگی کے دوران صدر بشار الاسد کے شانہ بشانہ لڑتا رہا ہے جس سے اسرائیل کے خدشات کو تقویت ملی ہے کہ اس کا سب سے بڑا مخالف و دشمن ایران اس کی سرحد تک پہنچ چُکا ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمین نیتن یاہو نے اپنے ایک واضح اور دو ٹوک بیان میں کہا تھا کہ “جو ہمیں نقصان پہنچائے گا، ہم اس کو بھی نقصان پہنچائیں گے۔ اسی رد عمل کے تحت ہم نے ایک ہی رات میں ایرانی القدس اور شامی فوج کو حملے کا نشانہ بنایا جہاں سے اسرائیل پر راکٹ حملہ ہوا تھا”۔
شام کی ایک آفیشل عرب نیوز ایجنسی نے اس فضائی حملے کی تصاویر جاری کردی ہیں جس میں دمشق کے مغربی علاقے میں ایک گھر میں حملے کے نتیجے میں تباہ کاریاں دکھائی گئی ہیں جو اسرائیلی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی آرمی کے ترجمان جوناتھن کانریکس نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک درجن کے قریب فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں فوجی گودام اور دیگر فوجی احکاماتی ٹھکانے شامل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملہ انتہائی شدید تھا۔ سب سے اہم ٹارگٹ دمشق کے ہوائی اڈے پر قائم ایک کنٹرول سینٹر تھا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کانریکس کے مطابق یہ وہ عمارت تھی جو سپاہ پاسداران انقلاب کو ایران سے شام اور شام سے آگے لیجانے کےلئے فوجی سازوسامان کی لاجسٹک، تکنیکی اور دیگر آمدورفت کی سہولیات فراہم کرنے کے کام آتا تھا۔
واضح رہے کہ شام میں 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک اسرائیل نے شام میں موجود کئی ایرانی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے مگر ان پر اسرائیل کی جانب سے بہت کم ہی بات کی جاتی تھی، تاہم اس حملے کو اس بنیاد پر زیادہ فیصلہ کن کہا جارہا ہے کیونکہ اسرائیل اس پر کھل کر بات کررہا ہے۔
منگل کے روز اسرائیل پر شام سے چار راکٹ فائر ہوئے تھے جن کو اسرائیل کے آئیرن ڈوم میزائیل ڈیفنس سسٹم نے ہوا میں ہی نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا، اسرائیلی فوج کے مطابق یہ حملے شامی سرزمین سے ایرانی القدس کی جانب سے کئے گئے تھے۔ اسرائیلی فوج ترجمان کے مطابق یہ حالیہ سالوں میں چھٹی دفعہ ہے جب شام کی سرزمین پر سے ایران نے اسرائیل پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
اسرائیلی فوجی شامی سرحد پر الحاق کئے گئے گولان ہائیٹس کے علاقے میں تعینات ہیں۔
اسرائیل کا حملہ راکٹ حملے کے ایک دن بعدبروز بدھ شروع ہوا جس کے دوران دمشق میں موجود مختلف ٹھکانوں اور عمارتوں پر گولہ باری کی گئی جس سے پورا دمشق شہر گونج اٹھا۔