کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہارموومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں شہید رحمت شاہیں بلوچ شہید سبزل بگٹی شہید ایوب بلوچ شہید شکور بلوچ شہید حمید بلوچ شہید ریاض بلوچ کو ان کی غیر معمولی قربانی اور قومی شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ غلامی سے نجات اور آزادو خوشحال بلوچ معاشرہ کے لئے شہداء نے اپنی جان سے کھیل کر آزادی کی جدوجہد کو قوت اورحوصلہ عطا ء کئے ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گے بلوچ شہداء نے اپنے ہمہ گیر جدوجہد کے زریعہ بلوچ تحریک آزادای کو عالمی سطح پر متعارف کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں ترجمان نے کہاکہ شہداء کی لازوال قربانیوں سے آزادی کی جدوجہد کو نئی شکتی ملی ہے اگرچہ انسان کی جان سب سے زیادہ قیمتی ہے لیکن آزادی کی جدوجہد کا شعور آزادی کو جان سے بھی زیادہ قیمتی کرتا ہے ترجمان نے کہاکہ بلوچ قوم کھبی بھی بیرونی تسلط کو قبول نہیں کیا یہان انگریز آئے پرتگیزی آئے لیکن بلوچ قوم کسی بھی بیرونی طاقت کی تسلط اور غلامی کو قبول نہیں کیابلکہ ان اقوام کی طرح ہمیشہ مدافعتی جدوجہد کے زریعہ اپنی جداگانہ تشخص اور آزادی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے جن کی ایک شاندار تاریخ ہے جو تاریخ میں اپنی جدوجہد کے زریعہ دیگر قوموں کی جدوجہد کے مثالی بن چکے ہیں بلوچ قوم کی تاریخ کے صفحات بھی ایسے سپوتوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے ایک آزاد باقار اور مساوی سماج کی جدوجہد میں ہمیشہ ہر اول دستہ کے طور پر تاریخ میں زندہ ہیں بیرونی طاقتوں کے یلغار کے خلاف جدوجہد آزادی کے سلسلہ کو قائم رکھتے ہوئے ایک نسل دوسرے نسل کے جدوجہد کو فراموش کرنے کے بجائے ان کی تقلید کی انہیں دہراتے ہوئے اٹوٹ تسلسل کے ساتھ بیرونی جارحیت اور تسلط کے خلاف برسر پیکار رہے اور یہی وجہ ہے کہ آزادی کا شعور بلوچ سماج میں شدت اور تڑپ کے ساتھ موجود ہے یہ بلوچ شہداء کی قربانیوں کی مرہوں منت ہے کہ آج بلوچ جہد آزادی اپنی فیصلہ کن تاریخی موڑ سے گزر رہی ہے ترجمان نے کہاکہ شہیدرحمت جان سمیت تمام بلوچ شہداء بلا تفریق قومی آزادی کے لئے اپنی جانیں نچھاور کیں یہ ایک ہمہ گیر اور کثیر الجہتی جدوجہد ہے شہداء نے مختلف محازوں میں رہ کر آزادی کی جدوجہد کی شہید رحمت قلمی محاز پر بلوچ قوم کی رہنمائی کی وہ اپنی صحافتی اور قلمی زمہ داریوں کے ساتھ ایک نمائندہ بلوچ رائٹر اور ادیب کا کردار اداکیا جدوجہد کے لئے دوران جدوجہد ان کا قلم اور سوچ کھبی بھی تذبذب کا شکار نہیں ہوان کی علمی و ادبی سرمایہ بلوچ قوم کے لئے مشعل راہ ہے ان کی قلم اور ادیبانہ بلوچ کردار کو ریاست برداشت نہیں کرسکے اس لئے انہیں شہید کیا گیا لیکن ان کی قلم کی روشنائی اور خون کی بلیدان نے بلوچ قوم کو آزادی کی جدوجہد سے جوڑے رکھا وہ جسمانی طور پر اگرچہ ہمارے درمیان نہیں لیکن ان کی سوچ خیالات اور نظریات ہمارے پاس قومی میراث کے طور پر محفوظ ہے ترجمان نے کہاکہ آج بلوچ قوم کے لئے جدوجہد کے تمام میدان موجود ہے بلوچ جہدکاراور بلوچ دوست اس کثیر الجہتی جدوجہد میں ہر طرح سے اپنا کردار اداد کرسکتا ہے ایک محاذ دوسرے محاذ کو مکمل کرتا ہے کوئی بھی طریقہ کار یا کوئی بھی زرائع جو بلوچ قوم کے آزادی کے لئے کار گر ہو وہ بانجھ نہیں


