نیویارک (ہمگام نیوز) فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غیر مشروط اور فوری طور پر غزہ میں جنگ بندی کرنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے۔ حماس کی طرف سے یہ خیرمقدمی بیان جمعرات کے روز جاری کیا گیا ہے۔

اس بیان میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کی طرف سے کی جانے والی مخالفت کو علامتی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔ کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹ حمایت میں آنے سے امریکہ و اسرائیلی مخالفت محض علامتی رہ گئی۔

حماس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بدھ کے روز اس قرارداد کو جنرل اسمبلی میں منظور کیے جانے کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔ جسے دنیا کے 158 ملکوں کی صورت میں غالب اکثریت نے منظور کیا اور یہ مطالبہ کیا کہ غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی ہونی چاہیے۔

قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ کے شہریوں کو اس قابل بنایا جائے کہ انسانی بنیادوں پر اشیائے ضروریہ انہیں دستیاب ہو سکے۔

خیال رہے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ جنگ بندی کے لیے 158 ووٹوں کی غالب اکثریت سے قرارا داد کی منظوری دی ہے۔ جبکہ 9 ملکوں نے جنگ جاری رکھنے کے حق میں اپنی رائے کو قائم رکھا اور 13 ملکوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ہے۔ اسی متن کی حامل ایک قرار دادا کو امریکہ نے پچھلے ماہ سلامتی کونسل میں ویٹو کر دیا تھا ۔

اسرائیلی جنگ کے دوران غزہ میں اب تک 44835 فلسطینی اسرائیلی فوج نے قتل کیے ہیں۔ ان فلسطینیوں میں سے 70 فیصد مقتول عورتیں اور بچے شامل ہیں۔