شیراز (ہمگام نیوز) قابض ایران کے جنوبی شہر شیراز میں دو زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
مقامی ذرائع اور شہریوں نے سماجی میڈیا پر ان دھماکوں کی تصدیق کی ہے، تاہم قابض ایرانی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کی آوازیں مختلف علاقوں سے سنائی دیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ واقعات ایک ہی مقام پر پیش نہیں آئے۔ دھماکوں کی نوعیت، مقام اور ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے بارے میں تاحال کوئی مصدقہ تفصیل سامنے نہیں آئی۔
خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور قابض ایران کے اندر جاری سیاسی و سیکیورٹی کشمکش کے پس منظر میں ان دھماکوں نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا یہ واقعات کسی اندرونی مزاحمت؟ یا پھر بیرونی حملے کی کوئی نئی لہر؟ یا شاید یہ ریاستی اداروں کے درمیان طاقت کی رسہ کشی کا علامتی اظہار ہو؟
سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب ایرانی ریاست پر اندرونی کمزوریوں، عوامی غیظ و غضب، یا ادارہ جاتی اختلافات کا دباؤ بڑھتا ہے، تو اکثر ایسے “نامعلوم حملے” ریاستی بیانیے کے آلے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں تاکہ عوامی توجہ اصل بحرانوں سے ہٹائی جا سکے۔














