کوئٹہ (ہمگام نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران ، شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2264دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں سول سوسائٹی کے بڑی تعداد میں لاپتہ افراد ، شہدا کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھروپور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لاپتہ بلوچ فرزندوں ، شہدائے قومی تحریک سمیت پوری قوم کے قربانیوں کے سیڑھی بنا کراقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئے ، جس کے لئے و ہ غیر منطقی اور غیر حقیقت پسند انہ دلائل اور جھوٹے و گمراہ کن نعروں کا سہارا لے رہے ہیں قومی تحریک کی جدو جہد میں صوبتیں جھیلنے اور قربانیاں دینے کا حوصلہ اگر نہیں رکھتے ہیں تو بھی کوئی بات نہیں مگر قومی تحریک میں عملی طورپر حصہ دار نہ بنے تو وہ معیاری ہے مگر کسی طرح دشمن کو تقویت پہنچا نا قوم سے کھلی غداری ہے وائس پافر مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قومی تحریک کہ قومی تحریک جدو جہد کر رہے ہیں لیکن بلوچستان میں نام نہدا د حکمران حصہ لینے کا مطلب ہے جبری قائم غیر فطری سرحدو آئین دستور قانون وجبری عملدرآمدی کو تسلیم کرنا اور دنیا کی نظرمیں اسے قانونی و اخلاقی جواز فراہم کرنا ہے ۔ ماما قدیر بلوچ نے کہاکہ انسانی آزادی کا راستہ بنالینا بہت محنت کاکام ہے قبائلی فرد خود کو قبیلہ سے جدا نہیں کر سکتا یہ سماج عروت کی آزادی اور برابری کی شاہراہ کی سب سے بڑی رکاوٹ کو خود اپنی ما تحتی والی عادت اپنے جمود کی حالت اور پرانے سماج کے مردہ بوجھ کو اٹھانے رکھنے کی وجہ سے بلند کرتا چلا جا تاہے ماما قدیر بلوچ نے کہاکہ قومی تحریک پر شب خون مارنے اور اسے بری طرح سپوتاژ کرنے کی نا قابل معافی عمل بھی ہے ۔


