اکیسویں صدی کی ابتدائ سالوں میں جب بلوچستان پر قوم نے قبضہ گیروں سے نجات حاصل کرنے کے لیئے جنگ آزادی کی نئ تحریک کی شروعات کی تو پہلے پہل کسی کو یقین نہیں آیا کہ بلوچستان ایک مقبوضہ سرزمین ہے اور اسے پاکستان نے قبضہ کر رکھا ہے کیونکہ ساٹھ ستر سال عرصہ بہت لمبا ہوتا ہے جب آپ کو یہ بھلا دیا جائے کہ میں بحیثیت بلوچ ایک آزاد ملک و قوم کا والی و وارث رہا ہوں اس ساٹھ ستر سال کے دوران دشمن ملک غیر فطری ریاست نے ہمارے اذہان پر بلوچ قوم کی تاریخ و ثقافت اور جغرافیہ کو مسدود کیا تھا جس میں ہمیں یہ خبر نہیں چلا کہ ہم بھی کسی زمانے میں آزاد مملکت کے باشندے ہوا کرتے تھے کیونکہ پاکستان نے ہماری ہر اس چیز کو ہماری پیدائشی سے پہلے ہمارے سماجی ڈھانچے سے مٹا چکا تھا جسے ہم فخر کریں کہ ہمار وطن بلوچستان ہے بلکہ ہم یہی سوچتے رہے کہ پاکستان ہی ہمار وطن ہے جناح ہمارا قومی ہیرا اور علامہ اقبال شاعر مشرق اور پاکستان کا خواب دیکھنے والا ہمارا محسن ہے یہ دھائیوں پر مشتمل وہ زہریلے انجکشن تھے جس کو بھر بھر کر ہمارے اجسام میں چھبو دیا گیا تھا اور ہم اپنے آپ سے بیگانہ رہے ـ لیکن جب جنگ آزادی نے ایک نئ کروٹ لی تو ہمیں احساس ہوگیا کہ ہم ایک غلام قوم ہیں پاکستان نے جبری طور پر ہم قبضہ کر رکھا ہے تو ہم کو پاکستان سے اتنی نفرت ہوگیا کہ ہم نے پاکستان کے وجود ہی کو خطے کے امن کے لیئے ایک ناسور سجھا اور اس سے چھٹکارا پانے کے لیئے کارزار میدان میں سرگرم عمل رہے ـ

ابتدائ سالوں میں ہر طرف قومی آزادی کی مانگ زور پکڑ رہی تھی ہر طرف بلوچ نوجوانوں علم اور دانش کی جانب بڑھ رہے تھے بی ایس او ٹکروں میں بٹنے کے باوجود بی ایس او کے چند جوشیلے نوجوان بلوچ قوم کو قومی آزادی کی جانب مشغول کرا رہے تھے لائیبریوں اور کتابوں کی اہمیت بڑھ گئ بی ایس او کے نوجوان کے ہاتھ میں علم و فلسفہ اور بڑے بڑے دانشوروں کی لکھی ہوئ ضخیم کتاب ہوا کرتے تھے ـ اس دوران قوم اور قومی آزادی کے مانگ کے علاوہ دشمن کو سبق سکھانے کے جوش زوروں پر تھے، پھر کیا ہوا اچانک تحریک کے اندر نظریاتی اختلافات دبے الفاظ میں سامنے آنے لگے بی ایس او آزاد جو کہ مکمل آزاد ریاست کا خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے بلوچ نوجوان کا گاڈ فادر تھا اس کے اندر نظریاتی اختلافات جنم لینے لگے اور بی ایس او آزاد دن بدن محدود ہو کر کسے جھونپڑی میں جا کر بند ہوگیا ـ اس دوران شہید غلام بانی بی این ایم اپنے دو ساتھیوں سمیت شہادت کے بعد بی این ایم بھی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگیا اور بی این ایم ش م بن گیا اس کے علاوہ مسلح مزاحمتی تنظیم میں اختلافات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل پڑا بی ایل اے جیسے مادر آگنائزیشن کہا جاتا ہے وہ تقسیم ہوگیا اور ایک نیا دھڑا سامنے آیا اس کے بعد بی ایل اے کے دو معطل کمانڈر اسلم بلوچ اور بشیر زیب بھی اسی نام کو استعمال کرتے ہوئے آگے آئے اور نئے بی ایل اے کا اعلان کر دیا جبکہ اس بشیر زیب کے بی ایل اے کہ بی ایل ایف کے رہنما اللہ نزر نے اس کی حمایت و کمک کا اعلان پس پردہ کیا اور معطل کمانڈروں کو اپنے گدان میں پناہ دی ـ اس سے پہلے بی ایل ایف جو کہ مکران میں اچھا خاصہ نام و اہمیت کا حامل تھا دو حصوں میں بٹ کر ایک نیا دھڑا سامنے آگیا اور اس کا نام بی این ایل ایف رکھ دیا گیا جس کا سربراہ ماسٹر سلیم بلوچ ہوا( چند ہفتہ پہلے ماسٹر سلیم نے پاکستان آرمی کے سامنے جا کر ہتھیار ڈال دیئے اور پاکستانی پرچم کو سلامی پیش کی) یہ سلسلہ چلتا رہا نظریاتی اختلافات کو لے کر لوگ ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی، گالم گلوچ کرنے لگے جن جن نقاط پر اختلافات نے جنم لیا تھا انہی نقاط کو چھوڑ کر آزادی پسند ایک دوسرے کے گریبان تک جانے کی کوشش کرتے رہے، بلوچ عوام مایوسی کی اندھیروں میں جانے لگا اس دوران دشمن پاکستان اور اس کے کارندے آگے آئے بلوچ عوام کے اندر ان آزادی پسندوں کے خلاف نفرت کی شجر کاشت کرنے لگے اور ان کو کہنے لگے کہ یہ آپس میں ایک دوسرے کا گلہ کاٹ رہے ہیں مخبری کے نام پر آپ کے بچوں کو قتل کر رہے ہیں یہ کیا گھل کھلائیں بات تو کڑوا سچ ہے لیکن بلوچ مایوسی میں آزادی پسندوں اور مسلح تنظیموں سے دور ہوتے رہے اس کے بعد پاکستان نے اپنے اداروں اور کاسہ لیسوں کو سرگرم کرنا شروع کیا ـ آپ نے کبھی دیکھا کہ ایف سی کے لوگ گلیوں بازاروں میں جا جا کر لوگوں میں راشن تقسیم کر رہے ہیں زبیدہ جلال مجبور اور غریب لوگوں کی شادی کرانے میں مصروف ہے یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ـ اب مایوس عوام پر جب کوئ مصیبت دشمن کی جانب آتا ہے تو آزادی کی ڈیمانڈ کے بجائے آزادی پسندوں کی کمک کرنے بجائے بینر اور پلے کارڈ اٹھا کر لکھتے ہیں Justice for Pilan سڑکوں اور پریس کلبوں میں صرف اور صرف انصاف کے متقاضی ہوتے ہیں چند سال پہلے دشمن پاکستان نے جتنے غضب بلوچستان پر ڈھائے تو بلوچ عوام نے انصاف مانگنے کے بجائے وہ اپنے بازو مسلح تنظیموں اور سیاسی قیات پر یقین اور امید کا چراغ لیئے نکلتے تھے کہ دشمن اگر ہم پر ظلم ڈھا رہا تو ایک دن ہمیں ضرور آزادی ملے گی ـ اب بلوچ عوام مکمل مایوس ہوچکی ہے انہیں یقین ہے کہ سیاسی قیادت اور مسلح تنظیموں کی آپسی چپقلش کی وجہ ہمیں آزادی نہیں بلکہ بربادی ملے گی اس لیئے وہ خاموش ہیں اور مایوس بھی ـ ہم دیکھ رہے ہیں گزشتہ دو تین سال سے ہمارے سماج میں اور بیرونی سطح پر آزادی کی تپش دم تھوڑ رہا ہے بلوچ سیاسی کارکن قومی آزادی کے بجائے بلوچستان میں اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کا رونا رو رہے ہیں بلوچستان کی آزادی کے بجائے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ہر جگہ چلا رہے ہیں ـ جب کسی قوم کو غلام کیا جاتا ہے تو ان کی زمین پر غیر اقوام آ کر قبضہ کرتے ہیں تو ان کو انسانی حقوق دینا تو دور کی بات ان کو جانوروں سے بدتر سمجھا جاتا ہے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو کہ ایک درندہ شیر اپنے شکار کو چیر پھاڑ پر کھاتا ہے ہمارے دشمن وہی کر رہا ہے وہ دشمن چاہے ایران ہو یا پاکستان ہمارا شیر کے منھ میں وہی شکار جیسا مثال ہے تو یہاں انسانی حقوق کس بات کی؟ اب انسانی حقوق کا رونے والے یہی سمجھتے ہیں کہ ہمیں انصاف پاکستانی عدالتوں سے ملے گا ایک خام خیالی کے علاوہ ایک احمقانہ سوچ ہے ـ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر آج بلوچ آزادی جیسے فطری شے کو چھوڑ کر انصاف تلاش کر رہا ہے یا انسانی حقوق کے لیئے جدوجہد کر رہا ہے اس کے ذمہ دار وہ بلوچ سیاسی و مسلح قیادت ہیں جنہوں نے سیاسی و نظریاتی اختلافات کو حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے گلے میں اس طرح پڑے ہیں جیسے وہ ایک دوسرے کو اپنا ازلی دشمن تصور کرتے ہیں ـ انصاف اس وقت ملے گا جب آپ کو ایک آزاد ماحول ملے گی اگر آپ کے ساتھ کوئ ناروا سلوک کرے گا تب آپ کے آزاد ریاست کا آزاد عدالت اور قانون ساز ادارے آپ کو انصاف فراہم کرے گا آپ کے انسانی حقوق کا تحفظ آپ کے آزاد اور خودمختار ریاست اور اس کے ادارے کریں گے قبضہ گیروں سے انصاف کی مانگ کرنا اور اپنے انسانی حقوق کی پامالیوں کا رونا ایک ناقابل یقین عمل ہے ـ اب آتے ہیں ان تمام آزادی پسند قیادت کے سامنے جنہوں نے سیاسی و نظریاتی اختلافات کو حل کرنے کے بجائے نہ صرف بلوچ قوم اور قومی تحریک کافی حد تک نقصان پہنچایا ہے بلکہ خود کو اور اپنے تنظیموں کو بھی بہت حد تک پستیوں میں دھکیل دیا ہے ـ بلوچ قوم اگر مایوس ہے لیکن آپ سے ناراض نہیں اس لیئے اپنے لوگوں کی مایوس دور کرنے کے لیئے ہر اس قیادت اور سیاسی کارکن کو اپنے اناپرستی کو چھوڑ کر اپنے اندر بغض عناد کو مار کر اپنے لوگوں سے پھر جھڑنا ہوگا جو یہ کام پہلے سوچ کر کرنا چاہیئے تھا اپنے اختلافات اور مسائل کو حل کرکے ایک نئ شروعات کرنا ہوگا اختلافات اور مسائل کے حل تلاشنا اتنے مشکل نہیں ہیں اگر کسی سے کوئ بھی غلطی سرزد ہوا ہے یا ان کے ہاتھوں میں قوم اور آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچا ہے تو اسے اس کا ازالہ کرنا ہوگا یہ قوم اتنا رحم دل ہے اگر اس کے بھائ کا قاتل اس کے دروازے پر آئے تو وہ اپنے بھائ کے قاتل کو معاف کرکے اسے گلے لگا کر عزت و احترام کے ساتھ اس کے گھر تک چھوڑ آئے گا تو آپ کو یہ رحم دل لوگ بھی معاف کریں گے کیونکہ آج ہم نے مل بیٹھ کر اپنے غلطیوں اور کمزوروں پر روک نہیں لگایا تو مبادا کل یہی عوام دشمن کے ساتھ مل کر آپ کا صفایا کرنے کے کیئے آپ کے ٹھکانے تک آ پہنچے ـ اب بھی وقت ہے کہ بلوچ کی وہی طلب کو واپس لے آئیں جیسے انہوں نے جنگ آزادی کے شروعاتی دور میں طلب کیا تھا اور ایک شدت کے ساتھ آزادی کے چراغوں کو روشن کیا تھا کیونکہ اگر ہم نے سدھرنے کا راستہ اختیار نہیں کیا تو آج عوام بھلے ہی اگر انسانی حقوق کا نعرہ لگا رہا وہ جانتا ہے ان کے انسانی حقوق کے خلاف ورزیاں دشمن کی جانب سے ہو رہی ہیں تو کل یہی مطالبہ کرے کہ آپ سیاسی و مسلح قیادت نجات دہندہ نہیں بلکہ ہمارے دشمن سے بدتر ہیں انسانی حقوق کو چھوڑ کر آپ کو اپنے اندر ہٹانے کا فیصلہ کریں تو اس وقت شاید آپ کو سر چھپانے کا جگہ نہ مل سکے ـ

سلام سنجر