ہمگام کالم: مورولبریشن موومنٹ دنیا کی تاریخ میں ایک توانا اورمضبوط ترین تحریک رہا ہے جہاں وہ فلپائن کے جنوب کے خطے سولو،پالوان اور مندادانا جزائر میں قومی آزاد ریاست کا مطالبہ کرتے رہے کیونکہ ان ریاستوں نے جوں ہی 4 جولائی 1946میں امریکہ سے آزادی لی پھر اسی دوران فلپائن کی ریاست نے ان پر قبضہ کیا اس وقت سے وہ غلامی کے خلاف آواز اٹھاتے رہے لیکن انکی آواز اس وقت اتنا توانا اور مضبوط نہیں سمجھا جارہا تھا لیکن جب 1968میں مسلم آزادی موومنٹ کے نور مصوری نے مورو نیشنل لبریشن فرنٹ کا باقاعدہ بنیاد رکھا جس کا پروگرام فلپائن سے مکمل قومی آزادی تھا اس وقت سے انکی تحریک مضبوط اور منظم ہونا شروع ہوا اور وہ قابض کے خلاف ایک توانا اور مضبوط آواز بن گئے انکی تحریک کو ملا ئیشیا اور لیبیا مالی سیاسی اور سفارتی حمایت و کمک دیتے رہے ،اس شورش سے تقریبا 150000لوگ مارے گئے صرف23 ستمبر1972 میں دوہزار کے قریب انکے لوگ فلپائن نے مارڈالے اور انکے ایک لاکھ لوگ بے گھر کیے 27مارچ 1973کو زمبوگا جزیرے میں قابض فوج اور مورولبریشن فرنٹ کے درمیان جھڑپ میں جہدکاروں کے 350جنگجو ماردیئے گئے لیکن اتنی بڑی جانوں کی قربانیاں انکے چند مفاد پرست ،زرپرست عہدہ پرست ،شوق لیڈری میں گرفتار کمانڈروں اور لیڈروں کی وجہ سے آزادی سے حق خودرادیت وہاں سے ہوتے ہوئے آخر کاربنگساموروبنیادی قانون معاہدہ سے انجام تک پہنچا ،جہاں انکی قومی آزاد ریاست کی تشکیل کی پروگرام قومی حقوق تک ختم ہوا ۔کسی بھی قومی تحریک کو کمزور اور ختم کرنے کے لیے قابض اپنے چند شاطر ،چالاک ،فریبی اور مکار لوگوں کو تحریک و پارٹیوں میں سرایت کروا کر اور پھر ان کے زریعے وہ پوری تحریک کو دھیمے اور آہستہ طریقہ سے پہلے قوم اور لوگوں سے تنہا کر تے ہیں پھر کچھ لوگوں کو لیڈری نمود ونمائش کا عادی بنا کر تقسیم در تقسیم کے وقتی طور عارضی خوش ذائقہ اور مزیدار زہر لوگوں کو پلا کر گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور انکا پہلا حربہ قوم اور اپنے لوگوں کو استدلال ،وجدان ،عقلییت پسندی سے نکال کر بے عقلیت ،عدم تعقل اور غیر معقول عقیدہ اور بے جاجذباتیت کا ٹیکہ لگاکر بے ہوش کرنا ہوتا ہے اور اسی بے ہوشی کے مدت اور دوران میں مضبوط اور منظم تحریکیں تقسیم درتقسیم کی وبا ، امراض کے زہر سے تباہ وبرباد کیے جاتے ہیں ۔مورو نیشنل لبریشن موومنٹ بھی بہت زیادہ مضبوط تھا اس کی بنیادیں 1978میں اس وقت کمزور ہونا شروع ہوا کہ اس سے ایک مضبوط کمانڈر سلامت ہاشم ا پنے دھڑے سے الگ ہو کر تین سال بعد اس نے الگ سے مسلح تنظیم مورو اسلامت لبریشن فرنٹ بنایا ،لیکن انکے الگ ہونے کے حوالے سے بھی ایک موقف تھا کہ وہ الگ اسلامک طریقہ سے کام کریں گے اور اسکے پارٹی کے نقطہ نظر سے اختلافات ہوئے جسکی بنیاد پر اس نے تنظیم سے اپنا گروہ الگ کرکے الگ سے دھڑا بناڈالا کہ وہ اسلامک نظریہ کے بنیاد پر کام کریگا لیکن اس تقسیم اور ایک تنظیم کی موجودگی میں دوسرے تنظیم کے بننے کے عمل نے تحریک کی بنیادیں کمزور کیا اور پھر باقیوں کے لیے تقسیم درتقسیم کا ایک دریچہ و جواز کھلا ۔کیونکہ پھر 1991میں مورونیشنل لبریشن فرنٹ سے کمانڈر عبدل جبار ابوبکرجنجلانی نے بغاوت کرکے الگ سے ابوسیاف بنایا جو کچھ سالوں بعد ایک جھڑپ میں مارا گیا ،لیکن لیڈری اور نمود نمائش کے شوق میں اس نے تو مورو تحریک کو اندرونی طور پر تقسیم کرکے انتشار کا شکار کرنے کے ساتھ بین القوامی سطح پر بھی اپنے دہشت گردانہ کاروائیوں سے تحریک کا جنازہ نکال دیا۔ ابوسیاف عربی میں تلوار اٹھانے والے کو کہتے ہیں وہ سمجھتے تھے کہ ریاست کی تشکیل طالبان ،القاعدہ اور مذہبی دہشت گردوں کی طرح کی کاروائیوں سے ممکن ہوسکے گا لیکن انہوں نے اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں سے اہنے تحریک کونقصان دیا انکے خلاف جتنی بھی زیادہ طاقت پھر قابض نے استعمال کیا ابوسیاف کی کام کی وجہ سے پوری دنیا انکی حمایت کرنے سے لیت ولعل سے کام لے کر ہاتھ کھینچتا رہا بلکہ دنیا قابض کی بیانیہ کی حمایت کرتے رہے کہ وہ انکا صفایا کریں ،عبدل جبار ابوبکر جنجلانی کی موت کے بعد اسکے بھائی کو جب ابوسیاف کا لیڈر بنایا گیا تو اسکو بھی قابض نے راستے سے ہٹا کر مار ڈالا ،ابو سیاف کا موقف تھا کہ دُشمن کے خلاف کسی بین القوامی قانون اور اصولوں کی اہمیت نہیں وہ ہمیشہ افغان مجاہدین کی روس سے نکالنے کا حوالہ دیتے رہے کہ افغان مجاہدین نے طاقت کے بل بوتے پر روس جیسے سپرپاور کو شکست دی تو وہ بھی فلپائن کی ریاست کو طاقت اور دہشت گردانہ کاروائیوں سے شکست دے سکیں گے لیکن انکی کاروائیوں کی ہمیشہ سے مورونیشنل لبریشن فرنٹ اور مورو اسلامک لبریشن فرنٹ نے کھل کر مخالفت کی انکو خدشہ تھا کہ انکے اندر قابض کے سرایت کردہ لوگ تحریک کا ستیاناس کرنے کا منصوبہ بناچکے ہیں اور انکی تمام کاروائیاں تحریک مخالف رہے اور وہ قومی تحریک کو طالبان طرز پر لے جاکر تباہ کرنا چاہتے تھے کیونکہ آخر میں امریکہ سمیت سب نے فلپائن کی حکومت کی حمایت کی کہ وہ ابوسیاف کا خاتمہ کریں اور اس سے قابض کو ایک فائدہ بھی ہوا کہ اس تقسیم درتقسیم اور اپنے لوگوں کی سرایت کردہ لوگوں کی وجہ سے انکی تحریک کو نیشنلزم اور قومی آزاد ریاست کی تشکیل کی جدوجہد سے ہٹا کر اسکو مزہبی دہشت گرد بناکر پوری دنیا کی اخلاقی حمایت حاصل کرکے انکی جدوجہد کوکمزور کیا ۔حالانکہ ابو سیاف ہر ایک حملہ میں سو کے قریب لوگوں کو نشانہ بناتے تھے اور وہ دہشت کی نمونہ بناہوا تھا لیکن انکی کاروائیاں انکے تحریک کو فائدے کے بجائے نقصانات سے دوچار کرگئے اور وہ مضبوط منظم تحریک کمزورہوا کیونکہ تقسیم درتقسیم یہاں تک نہیں رکا بلکہ ہر کوئی دوسرے دن کوئی نئی تنظیم بناکر تحریک کے بجائے ذاتی قدوکاٹ ،پوزیشن اور رتبہ بڑھانے کے چکر میں لگا ۔بعد میں کمیونسٹوں نے نیو پیپلز آرمی بنایا ،حالانکہ اس نے بھی بہت سے لوگ مارے ایک رپورٹ کے مطابق نیو پیپلز آرمی نے صرف 40000لوگ مارے لیکن انکی کاروائیاں سیاسی مقاصد اور بین القوامی اسٹینڈر کے برخلاف ہونے کی وجہ سے پوری تحریک کے لیے نقصانات کا سبب بن گئے ان سے متاثر ہوکر پھر ایک اور گروپ مورو مزاحمت اور لبریشن آرگنائزیشن بن گیا پھر اسی طرح کی تقسیم درتقسیم اور نئی پارٹیوں کے بننے کے منفی عمل نے پوری تحریک کو مزاق بنایا اور ہر کوئی چھوٹی سی چھوٹی چیز پر پارٹیاں توڑنے اور الگ دھڑے بنانے میں قومی اور تحریکی شرم محسوس نہیں کرنے لگے بلکہ تحریک ان کے لیے ثانوی درجے کا بن گیااول فوقیت انکے ذاتی مفادات ،شہرت،نام نمودونمائش رہا اور اس طرح سے تقسیم درتقسیم ان ہی پارٹیوں کے اندر سے رہا جہاں درجن بھر نئی تنظیمیں بن گئے۔ اسلامی ممالک اور دنیا میں توڑا سا بھی ان کا جو احترام اور عزت تھا وہ بھی نہ رہا اور وہ ملائیشیا ،لیبیا اور کچھ اسلامی ممالک کے سامنے جی حضوری چاپلوسی بھی کرتے رہے لیکن دنیا میں انکا امیج کم ہوا پھر ابوسیاف نے تو اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں سے انکو اس رخ پر موڑ دیا کہ کسی بھی ملک کے لیے انکی حمایت کرنا بھی مشکل ہوکر رہ گیا اور آخرکار وہ آزادی کی جدوجہد جہاں لاکھوں لوگوں نے اپنی زندگیاں دی اور گھر اجڑ گئے گاوں اور شہر ویران ہوئے اسی تحریک کو تقسیم درتقسیم اور چند کمانڈروں کونام نہاد لیڈر بنانے کے عمل نے انکی تحریک کو تہس نہس کردیا ۔قومی تحریک کو نمود ونمائش اور لیڈری کی خاطر تقسیم کرنے والے زیادہ تر لوگ بھی مار دیے گئے انکا نمود ونمائش اور لیڈری بھی نہیں رہا لیکن وہ تحریک کابیڑہ غرق کرگئے ،پھر تحقیق سے ثابت ہوا کہ ابوسیاف کے بننے اور انکی کاروائیوں کو دہشت گردانہ رخ دینے اور تقسیم درتقسیم کی اسکیم اور منصوبہ فلپائن کی حکومت کا تھا تاکہ وہ انکی تحریک کو اندرونی طور پر تقسیم کرکے بیرونی طور پر دہشت گردانہ کاروائیوں سے ختم کرسکیں ،کیونکہ عام لوگ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں انکو جذباتیت کا ٹیکہ لگاکر قابض کے سرایت کردہ لوگ اپنے شیطانی ،حیوانی ذہنیت سے تقسیم درتقسیم کے زہر کو مھٹائی میں ڈال کر لوگوں کو کھلاتے ہیں وقتی طور پر شیرینی کی وجہ سے زہر کاذائقہ معلوم نہیں ہوتا ہے بلکہ کچھ لوگوں کو اچھا بھی لگتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ تقسیم درتقسیم کا زہر تحریک کے اندرپھیلاوُشروع ہوتا ہے جو آخر میں پوری مضبوط اور منظم قومی تحریکوں کو تباہ برباد کرتا ہے اسی لیے دنیا میں زیادہ تر انقلابی اور قومی تحریکوں میں تقسیم درتقسیم کرنے والوں کو غداروں اور مخبروں سے بھی زیادہ سزا اس لیے دیا گیا کہ انکی وجہ سے منظم تحریکیں تباہی کے دھانے پر پہنچ گئے ہیں اور تقسیم درتقسیم آخر کار آپسی چپکلش سے ہوتے ہوئے آپسی جنگ تک بھی گئے اور قابض کا بہتریں حربہ اور ہنر بھی یہی ہے کہ وہ تحریکوں کو اندرونی طور آپس میں الجھا کر قوم اور لوگوں کو ان سے بیزار کرکے تحریک کو نقصان سے دوچار کریں اس کے لیے قابض ریاست کو جیٹ جہاز،ہیلی کاپٹر ،توپ اور میزائل کی ضرورت نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک یا دو شیطانی اور حیوانی دماغ کے عامل اپنے سرایت کردہ مخبروں اور ایجنٹوں کو تحریکوں میں ڈال کر آسانی سے تنظیموں کے بندوق کا رخ دُشمن کے بجائے اپنے لوگوں کے خلاف کرنے آپسی تقسیم درتقسیم کرنے اور قومی جدوجہد کو ابوسیاف کی طرح قومی سے نکال کر طالبان طرز پر لے جاکر دہشت گرد قرار دینے کا کام آسانی سے کرسکے گا ۔بلوچ قومی تحریک بھی دنیا کے باقی ماندہ تحریکوں کی طرح بلوچ ریاست کی تشکیل کا تحریک ہے جسکی جڑیں بلوچ تاریخ ،کلچر،رسم ورواج اور نیشنلزم کے ساتھ پیوستہ ہیں اورحالیہ قابض پاکستان کے خلاف آغا عبدلکریم نے واضح آزاد بلوچ قومی ریاست کی تشکیل کا پروگرام دیا ،جسے بعد میں پاکستانی سیاست زدہ اور پارلیمانی طرز سیاست کرنے والے لوگوں نے بلوچ آزاد ریاست کی تشکیل کے پروگرام کو پانچ عشرہ تک حقوق ،خود مختاری اور حق خود ارادیت جیسے معمہ اور پہیلی استعمال کرکے تذبذب ،ابتری اور الجھن کا شکار کیا ۔لیکن اکیسویں صدی کے آغاز میں بلوچ لیڈر حیربیار مری نے بلوچ قومی تحریک سے ابہام ،کنفیوژن اور تذبذب کے دھول اور برادہ ہٹاکر جامع اور واضح قومی ریاست کی تشکیل کا پروگرام دیا اور وہ قومی تحریک اول پوری قومی تحریک بن گیا جس میں مری ،بگٹی ،ساسولی ،رئیسانی ،سرپرہ ،کرد،زہری سمیت تمام قبائل کے لوگوں کی شمولیت ،مکران ،خاران جیسے غیر قبائلی لوگوں کی شرکت سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے قومی تحریک میں اپنا حصہ ڈالا اور حیربیار مری نے کوشش کی کہ نواب اکبر خان بگٹی سمیت مکران اور جھالاوان کے لوگوں کوقومی تحریک میں شامل کرکے اسکو خالص قومی تحریک بنائیں اور وہ کامیاب ہوا کہ اسکو پہلی بار مری بگٹی مینگل تحریک سے نکال کر ایک قومی تحریک بنایا اور سارے لوگوں نے تحریک کے لیے قربانیاں دی اور وہ تحریک 2008تک پوری قوم اور دنیا کے لیے قابل تقلید ،پسندیدہ اور مثالی تحریک رہا ،اس نے اس تحریک کو ملانے والا اور قوم کے سارے لوگوں کی شرکت کرنے والا قومی تحریک بنایا کیونکہ دنیا کی جتنی بھی قومی تحریکیں کامیاب ہوئے تو وہ تحریکیں قوم کے تمام لوگوں کے ملانے اور شرکت کرنے والے موومنٹ رہے اور کسی بھی نیشنلزم کی تحریک میں مضبوط اور منظم تریں چیز قومی یکجتی رہا ہے اور تمام تحریکوں میں قابض کا زیادہ تر وار بھی قومی یکجہتی پر رہا ہے تاکہ وہ قومی یکجہتی کو کمزور کرکے پوری تحریک کو بحران اور نقصان سے دوچار کرسکیں ۔جن لوگوں کو تحریک کا بازو اور کمک بناکر سنگت نے کمک دیا اور انکو واک و اختیار دیا کہ وہ قومی تحریک کو اپنے صلاحیتوں ،قابلیت اور جدوجہد سے مذید توانااور مضبوط کریں لیکن ان علم و ہنر سے لیس اور غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والوں نے تحریک کو منظم کرنے کے بجائے اسکی نیشنلزم کی یکجہتی کو تیز چھری سے کاٹنے کی کوشش کرکے ڈاکٹر مالک ،کہور خان ،صابر کے پرانی مڈل کلاس کے شراب کو نئی بوتل میں ڈال کر طبقاتی کا رٹا لگانا شروع کیا ،اداروں کا رٹا لگاکر قومی اداروں کو اداروں کے طریقے سے تباہ و برباد کیا،منظم قومی مسلح تنظیموں کو جرائم پیشہ تنظمیں بناکر قوم اور لوگوں کی اعتماد کا خاتمہ کیا ،توڑی سی طاقت ان مڈل کلاسوں سے برداشت نہیں ہوا کہ اپنے خاندانی اور سیاسی مخالفین کو مخبری اور غداری کا لقب دیکر مارتے گئے اور اپنے ساتھیوں کو بھی اختلاف رائے کی بنیاد پر نشانہ بناتے گئے اور پوری قومی تحریک کی ساکھ کا جناہ نکال کر منظم اور مضبوط قومی تحریک کو یوسف کی قطب تک لے گئے ۔بقول ابراہیم لنکن کہ زیادہ ترلوگ مصیبت اور مشکلات اور سختی کے وقت ٹھر سکتے ہیں لیکن انکا سب سے بڑی آزمائش اس وقت ہوتا ہے کہ انکو توڑا اختیار دیں کیونکہ اچھے اور برے لیڈر اور لوگوں کی جانچ اختیارات کے وقت ہوتا ہے ،اچھے لیڈر اور رہنما اپنے اختیارات اور پاور کو غلط استعمال نہیں کرتے ہیں بلکہ اسکو اپنے قوم ،لوگوں اور سرزمین کی خاطر بہتریں طریقہ سے استعمال کرکے اپنے قوم سرزمین اور لوگوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں جبکہ بدیا بیمار لیڈر اور شخصیت سے طاقت اور پاور برداشت نہیں ہوتا، وہ طاقت کو اپنے ذاتی طاقت بڑھانے اور اپنے ذاتی گروہی مفادات کی خاطر استعمال کرکے آخرکار قوم لوگوں میں طاقت کے غلط استعمال سے انکی حقیقت منکشف اور طشت ازبام ہوتا ہے ،جرائم پیشہ لوگوں سے توڑا سا بھی طاقت و اختیار برداشت نہیں ہوا اور ان لوگوں نے اس طاقت کو قوم کے خلاف اس طرح سے استعمال کیا اور قومی بندوق اور ہتھیار کو اپنے اسائش آرام کی خاطر چوری چکاری ،منشیات کے لوٹ مار کے لیے استعمال کرکے چور اور سرمچار کے فرق کا بھی خاتمہ کیا اور اب عالم یہ ہے کہ مکران جہاں شروع کے زمانے میں تمپ ،مند اور تربت کے علاقوں میں جب فوجی اپریشن ہوتے تھے تو مردوں کے بجائے بلوچ خواتین اور عورتیں سڑکوں پر نکل کرفوجیوں کے سامنے رکاوٹ بنتے کہ وہ بلوچ سرمچاروں کے خلاف آپریشن نہ کریں لیکن قوم کی دی ہوئی طاقت کو اپنے قوم کے خلاف غلط استعمال اور جرائم پیشہ کاروائیوں کی وجہ سے ابھی حالیہ انڈیا پاکستان کی جنگ کے خطرے کے پیش نظر فوج نے مکران اور آواران کے کچھ علاقے خالی کرکے جارے تھے کہ مزکورہ ان علاقوں سے بعض بلوچ ان سے جاکر التجا کیا کہ وہ علاقہ خالی کرکے مت جائیں کہ انکو جرائم پیشہ لوگوں سے خطرہ ہوگا کیا یہ عمل خود پوری قوم اور تحریک کے لیے کسی قومی المیہ سے کم ہے ؟ جرائم پیشہ کام اور طاقت کے غلط استعمال سے قوم کو تحریک سے ناامید اور مایوس کرنا کیا کم تھا کہ تعلیم یافتہ مڈل کلاس نے مورولبریشن موومنٹ کی طرح تقسیم درتقسیم کا بھی دروازہ بلوچ قومی تحریک میں کھول کر جو کوئی کمانڈر یا ممبرز اپنے تنظیموں سے فارغ کیے جاتے وہ جاکر ان معطل شدہ لوگوں کو نئی تنظیمیں بناکر دینے لگے ان غیر سنجیدہ اور قومی سوچ اور فکر کے بجائے ذاتی سنگتی وفاداری اور فرمانبرداری کی وجہ سے تین تنظیموں سے بلوچ مسلح تنظیمیں چھ ہوگئے اور اب معطل شدہ لوگوں نے جرائم پیشہ لوگوں کی پارٹنرشپ سے تو مورو تحریک کی طرح بلوچ قومی تنظیموں میں تقسیم درتقسیم کا پورا در اور کواڑ ہی کھول دیا اور یہاں بھی ابوسیاف کی طرح معطل شدہ ٹولہ قومی تحریک کو دہشت گردی اور طالبان طرز پر لے جانے کے لیے طالبان کا حوالہ دینے کا سلسلہ شروع کرچکے ہیں اور جس طرح نیشنلزم کی قومی یکجہتی کو کمزور کرکے تقسیم درتقسیم کے زہر کو شہد جیسے میٹھے ذائقے میں ڈال کر کچھ لوگوں کو کھلایا جارہا ہے آنے والے سالوں میں اس زہر کا اثر مورولبریشن موومنٹ کی طرح ظاہر ہونگے اور اس تقسیم درتقسیم کی صدائے بازگشت ،ردعمل اور گونج پوری قومی تحریک کے لیے آفت رساں اور آفت انگیز ہوگا لیکن ایک چیز بلکل واضح ہورہا ہے کہ بی ایل اے جو مادر تنظیم ہے اس کے لیڈرشپ میں اور ممبران میں قومی آزادی اور قومی پروگرام کے حوالے پختگی اور بلوغت ہے کہ وہ کسی بھی تقسیم درتقسیم کے عمل کا حصہ نہیں ہیں اور تقسیم درتقسیم کی حوصلہ شکنی کررہے ہیں دوسری مسلح پارٹیوں سے پندہ سے زیادہ کمانڈر بھی انکے پاس گئے لیکن انہوں نے تقسیم در تقسیم کا ڈرامہ کھبی بھی نہیں رچایا باخبر زرائع کے مطابق بی آر اے نے بھی ری پبلکن گارڈ کو الگ شناخت دینے سے انکا کیا اورانکو بی آر اے میں شمولیت کرنے پر زور دیا کیونکہ وقتی طور پر شہد جیسی زہر کی طرح اس تقسیم درتقسیم کا ذائقہ ممکن ہے میٹھا ہو لیکن طویل مدتی اس زہر کے اثرات تحریک کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ لوگوں کیلیے بھی تباہ کن ہونگے تب لوگوں کو بھی معلوم ہوگا کہ حیربیار مری لیڈرنہیں بلکہ سیاسی مدبر تھا کہ جس نے پارلیمانی اور جرائم پیشہ لوگوں کی طرح اپنی پارٹی تنظیم کے لیے نہیں بلکہ پوری قومی تحریک اور نسل کے لیے سوچا تھا اور حیربیار مری اپنی قومی پالیسیوں اور مدبرانہ طرز سیاست اور جدوجہد سے ڈیوڈ بن گورین کی طرح وقتی طور پر تنقید اور مشکلات کا سامنا کررہا ہے لیکن وہ وقتی طور کی جوڑ توڑی پارلیمانی سیاست کی طرح بلوچ قومی جدوجہد کو مورولبریشن موومنٹ کی طرح طبقہ ،کلاس اور تقسیم درتقسیم کا زہر دیکر تباہ نہیں کررہا ہے اور وہ لوگ جو آج اپنے چند ذاتی گروہی مفادات اور لیڈری کی نمود و نمائش اور نام و شہرت کی خاطر قوم کو تقسیم درتقسیم کازہر پلا رے ہیں کل کو انکی اپنی تنظیمیں بھی اس تقسیم درتقسیم کے وبا اوربیماری سے بھی نہیں بچ سکیں گے اور ساتھ ساتھ وہ لوگ مورولبریشن مومنٹ کی طرح
قومی تحریک کے نقصانات کے ذمہ دار بھی ٹھریں گے کیونکہ بقول سوزی کاسم جب دو بھائی آپس میں لڑ رہے ہوں تو ایک برے حملہ اور آدمی کو انکی ماں کو لوٹنے میں آسانی ہو سکتا ہے اسلیے کہتے ہیں کہ مظلوم محکوم قوموں کو کندھے پر کندھا ملاکر قوم پرستی کے قومی یکجہتی کو مضبوط کرلیناچاہئے تاکہ کسی بد بخت کو موقع نہ ملے کہ وہ انکی قومی یکجتی کو پارہ پارہ کرکے قوم کو تباہ وبرباد کریں اور ہر وقت شیطان ذہنیت کے لوگ قومی یکجتی پر وار کرکے قوم کو تقسیم درتقسیم اور آپسی خانہ جنگی کا شکار کرکے قوموں کوعروج سے زوال کی طرف لے جاتے ہیں اسلیے بلوچ قومی تحریک میں شامل مخلص ایماندار اور خالص قومی کاز کی خاطر جدوجہد کرنے والے لوگ تقسیم درتقسیم کی زہر کو قومی تحریک میں پھیلانے میں مدد دینے کے بجائے روکنے کی کوشش کریں اور مخلص جہدکار کوشش کریں کہ وہ ،قومی یکجتی کو مضبوط کرنے کے لیے قو م کے درمیان پل تعمیر کریں نہ کہ دیواریں کیونکہ بقول انتھونی ٹی انکس بانٹ ، تقسیم درتقسیم صرف ایک ریاضی کا مسلہ نہیں ہے بلکہ قوموں ،انسانیت اور تحریکوں کا بھی بڑا مسئلہ ہے اور ہمیں بلوچ قومی تحریک کو اس تقسیم درتقسیم کے اس زہر اور بیماری سے محفوظ کرنا ہوگا ورنہ تقسیم درتقسیم کا وائرس سرطان کی طرح پوری تحریک کی جسم تک پھیل کر بلوچ قومی تحریک کو مورولبریشن کی طرح بڑے المیہ اورالمناک واقعہ کا شکار کرسکے گا ۔















