کوئٹہ (ہمگام نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران ، شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2262دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع کوئٹہ کے صدر سید ثناء اللہ آغا ضلعی سنیئر نائب صدر حمید خان چھلگیری نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔اور انہوں نے کہاکہ کہ عالمی میڈیاسے حقائق چھپانے اور انہیں بلوچستان میں داخل ہونے اور بلوچ کے نمائندوں کو دنیا کے دوسرے کمیونٹیوں و عالمی فورسز میں جانے کی پابندی عائید کرکے بلود سیکولر رویات رسم ورواج کو بد لنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ سرکاری و غیر سرکاری سطح پر آبادیاتی کلچر کو فروغ دیتا آرہا ہے تاکہ بلوچ اپنے اقدار و تاریخ سے بیگانہ ہوکر نئی روایات کا پابند ریں جوکہ اپنی توسیعی عزائم برقرار رکھنے کیلئے بنائیں ہیں اس طرح بلوچ قوم اعلمی توسیعی پسندوں اور اپنی قوم میں چھپے مکاروں کی مکاری سے لمبی غلامی کی سبب بہت حد تک تعلیمی پسماندگی کا شکار بنایا گیا ہے ظاہر ہے تعلیمی پسماندگی کسی کو بھی کچھ وقت تک دنیا کی جدید پروپیگنڈہ مشینری کے سامنے حقیقت کو سمجھنے اور محسوس کرنے سے بے حس کردے گی بلوچ کو جان بوجھ کر بھی ایک ایسے پسماندگی کی ماحول میں دکھیلنے کی ہر ممکن کوشش و قوت استعمال کی جارہی ہے وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماماقدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کر تے ہوئے کہاکہ لیکن بلوچ قوم کی خوش قسمتی ہے کہ کچھ بالغ ولنظر نوجوانوں نے دنیا کو دیکھ کر سمجھ لیا کہ اب ہمیں اپنی قوم کیلئے اپنے نوجوانوں کو ایک ایسی فلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جو آنے والے وقتوں میں انسانیت کے دشمنوں کا پہنچان کرکے بلوچ قوم کو تمام مکاروں کی مکاری سے آگاہ کریں۔ ماما قدیر بلوچ نے کہاکہ آج نفسیات کے ماہرین کی بہت بڑی تعداد کو بلو چ جہد کے خلاف ایکٹو کیا ہے وہ بلوچ کی معمولی حرکت پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔


