شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںماما قدیر بلوچ کی ریاستی جبر کے خلاف طویل جدوجہد اور ایثار...

ماما قدیر بلوچ کی ریاستی جبر کے خلاف طویل جدوجہد اور ایثار کو بلوچ قومی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ہم ان کی تاحیات جہد مسلسل کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ

شال (ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ماما قدیر بلوچ کی ریاستی جبر کے خلاف طویل، صبر آزما اور استقامت سے بھرپور جدوجہد محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ بلوچ قومی شعور، مزاحمت اور قربانی کی ایک درخشاں علامت ہے۔ ان کی بے لوث ایثار، ثابت قدمی اور حق کے لیے جہد مسلسل بلوچ قومی تاریخ کے افق پر ہمیشہ ایک روشن ستارے کی مانند جگمگاتی رہے گی۔

ظلم کے اندھیروں میں ان کا عزم چراغِ راہ بنا، جس کی روشنی آنے والی نسلوں کو حوصلہ، بیداری اور وقار کا درس دیتی رہے گی۔ ہم ان کی تاحیات جدوجہد کو نہایت عقیدت، احترام اور دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا ماما قدیر بلوچ کی پرامن سیاسی جدوجہد کی ایک لمبی داستان ہے اور وہ دہائیوں پر محیط ہے جس میں ان کا کوئٹہ سے ہزاروں کلومیٹر دور اسلام آباد اور کراچی تک کا پیدل مارچ بھی شامل ہے، مظلوم عوام کی جدوجھد کے حوالے سے ماما قدیر اپنی جوانی سے لیکر بستر مرگ تک بلند حوصلوں سے جدوجہد جاری رکھنے کا درس دیتے رہے، ماما قدیر صرف ایک فرد نہیں تھے، وہ جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کی امید، مزاحمت اور ثابت قدمی کی علامت تھے۔ ان کی پوری زندگی انصاف کی جدوجہد، بلوچ مظلوموں کی آواز بننے اور ریاستی جبر کے خلاف ڈٹ جانے کی داستان ہے۔ ان کی جدوجہد تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

ترجمان نے کہا کہ ماما قدیر بلوچ، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین اور بلوچ قوم کے ایک پرعزم، ثابت قدم رہنما تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچستان اور بلوچ قوم کی خدمت میں وقف کر دی۔ ماما قدیر نے اپنے دورِ حیات میں شدید کرب و رنج سہتے ہوئے بھی کبھی اپنی جدوجہد میں کمی نہیں آنے دی اور نہ ہی قربانی دینے سے کبھی دریغ کیا۔ان کی جہدِ مسلسل کا آغاز اس وقت ہوا جب سن 2009 میں ان کے لختِ جگر کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ،اس دن سے لے کر آخری سانس تک ہر بیٹی کے لیے باپ، ہر بہن کے لیے محافظ اور ہر مظلوم کے لیے امید و حوصلے کا سرچشمہ رہے اور بلوچ قوم کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے،وہ نہ صرف اپنے بیٹے کے لیے بلکہ بلوچ قوم کی ہر مظلوم ماں، ہر ستم رسیدہ بہن، ہر زندان میں قید بلوچ نوجوان اور ہر تشدد زدہ لاش کی آواز بن کر اُبھرے، جو نوآبادیاتی جبر کی نذر ہو چکی تھیں۔

مرکزی ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ آج کا دن بلوچ قوم کے لیے یومِ سیاہ ہے، کیونکہ ہم اپنی عظیم ہستی ماما قدیر کو کھو چکے ہیں۔ تاہم ان کی جدوجہد ہمیشہ ہمارے لیے مشعلِ راہ رہے گی اور ان کا عزم و استقلال قابلِ تحسین ہے۔ہم اس عظیم ہستی کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین اور سرخ سلام پیش کرتے ہیں، جن کی بے لوث قربانیاں، ایثار اور قومی خدمات کو بلوچ تاریخ میں سنہری حروف سے رقم کیا جائے گا۔ آج وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں رہے، مگر ان کی فکر، ان کا مشن اور ان کی قربانی ہر بلوچ کے دل میں شمع کی مانند روشن رہے گی، جو کبھی بجھ نہیں سکتی۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز