تہران (ہمگام نیوز) آمدہ اطلاع کے مطابق، جمعرات 11 مارچ 2026 کو قابض ایران کے مبینہ تیسرے رہنما مجتبی خامنہ ای سے منسوب ایک بیان جاری کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مجلس خبرگان کی جانب سے اپنی تقرری کے فیصلے کا علم ٹیلی ویژن کے ذریعے ہوا۔ اس سے قبل مختلف رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ قیادت کے لیے کئی ممکنہ امیدواروں سے بات چیت کی گئی، تاہم انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
مجتبی خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اپنے والد علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ان کے جسد کی زیارت کا موقع ملا۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنے والد کو “عزم اور استقامت کی ایک مضبوط علامت” کے طور پر دیکھا۔
انہوں نے ایران کے حامیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سڑکوں پر اپنی موجودگی برقرار رکھیں۔ جاری جنگ کے حوالے سے انہوں نے واضح طور پر کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے آپشن کو بدستور استعمال کیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران نے ایسے دیگر محاذ کھولنے کے امکانات کا بھی مطالعہ کیا ہے جہاں دشمن کا تجربہ کم ہے اور وہ شدید نقصان اٹھا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگی صورتحال جاری رہی تو مناسب وقت پر ایسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے انتقام لینے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف علی خامنہ ای کی ہلاکت تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ایران دشمن سے ہرجانہ بھی طلب کرے گا۔ ان کے مطابق اگر دشمن اس کی ادائیگی سے انکار کرے تو ایران اس کے اموال سے اپنی تلافی کرے گا، اور اگر یہ ممکن نہ ہوا تو اسی قدر دشمن کے اثاثے تباہ کر دیے جائیں گے۔
بیان میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مجتبی خامنہ ای کی صحت اور جسمانی حالت کے حوالے سے میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔















