شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںمرگاپ واقعہ بلوچستان کی تاریخ میں جلیانوالہ والا باغ کا درجہ رکھتا...

مرگاپ واقعہ بلوچستان کی تاریخ میں جلیانوالہ والا باغ کا درجہ رکھتا ہے۔ بی این ایم آن لائن پروگرام سے مقررین کا خطاب 

کوئٹہ (ہمگام نیوز) شہدائے مرگاپ کی گیارہویں برسی کے موقع پر ایک مرکزی آن لائن اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔اس کے علاوہ جنوبی کوریا اور برطانیہ میں شہدائے مرگاپ کی یاد میں ریفرنسز منعقد کئے گئے۔ان میں مقررین نے شہدا کی قربانیوں اور فلسفہ پر مفصل بات کی اور عہد کیا کہ شہدا کا مشن آزاد بلوچ وطن کی حصول میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ مرکزی اجلاس کے مہمان خاص بی این ایم کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری دلمراد بلوچ تھے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری دل مراد بلوچ نے شہدائے مرگاپ کوسرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین غلام محمد کو سیاست میں عظیم نام ومنصب میراث میں نہیں ملا تھا بلکہ ان کی کمٹمنٹ،سیاسی بصیرت، بہادری تھی کہ نہ صرف خود  بلوچ قوم پرستانہ سیاست کے اوج ثریا پر پہنچے، عظیم سیاسی میراث تخلیق کی بلکہ ہم جیسے بےنام و نشان لوگوں کو بھی اپنی سیاسی میراث کا حصہ بنایا، عزت اور وقار بخشا اور بی این ایم جیسی پارٹی میں خدمات کا موقع عطا کیا۔

انہوں نے کہا کہ مرگاپ واقعے کا بلوچ قومی سیاست میں وہی درجہ ہے جو اسلامی تاریخ میں کربلا، یا ہندوستان کی تاریخ میں جلیانوالہ باغ کا واقعہ ہے۔ گوکہ جلیانوالہ باغ بہت بڑا واقعہ تھا اس میں عددی اعتبارسے برطانوی سامراج نے بے شمارلوگ قتل کئے لیکن اثرات کےحوالے سے کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ مرگاپ واقعے نے بلوچ قومی سیاست پر دوررس اثرات مرتب کئے۔ مرگاپ واقعے نے بلوچ قوم اور پاکستان کے درمیان جو خلیج بنا دی ہے، اسے پاکستا ن اپنے حواریوں کے ساتھ مل کر کبھی نہیں پاٹ سکتا۔

دل مراد  بلوچ نے کہا پاکستان شاید یہ سمجھتا تھا کہ غلام محمد، لالا منیر اور شیرمحمد جیسےرہنماؤں کو بہیمانہ تشدد سے قتل کرکے ایک عبرت ناک مثال قائم کرے گا اور بلوچ توبہ تائب ہوکر جدوجہد سے دستبردار ہو جائیں گے۔ دوسری طرف بلوچ قومی تحریک میں عوامی موبلائزیشن اور سیاسی آواز کا خاتمہ ہوجائے گا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جہاں حق کی یافت کے لئے سرکٹتے ہیں تو وہاں انقلاب کا بہار آتا ہے، وہاں آزادی کے نغمے گونجتے ہیں، وہاں نسلیں سوگنداٹھاتی ہیں کہ راہ حق کے شہیدوں نے جس منزل کے لئے اپنے سر قربان کئے ہیں ہم بھی اسی راہ کے راہی ہیں، ہم بھی اسی راہ کے مسافر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کریڈٹ چیئرمین غلام محمد کو جاتا ہے کہ انہوں نے بلوچ قومی آزادی کی سیاست کو عوامی بنا دیا اور بلوچ سیاست میں روایتی طرز سیاست کی بجائے عوامی شمولیت اور موبلائزیشن کا عمل شروع کیا۔ چیئرمین نے باور کرایا کہ عوامی موبلائزیشن اورشمولیت کے بغیر جدوجہد کی کامیابی ناممکن ہے۔

دل مراد بلوچ نے کہا غلام محمد بلوچ ایک کثیرالجہتی انسان تھے لیکن مجھے سب سے زیادہ انکی سیاسی بصیرت نے متاثر کیا۔ یہ غلام محمد بلوچ کے دوررس نگاہوں کا اعجاز ہے کہ انہوں نے بہت پہلے یہ ادراک کر لیا تھا  کہ اس وقت کے بی این ایم کی قیادت پارٹی کو پاکستان کے لئے ایک ڈیتھ سکواڈ بنائیں گے اور اس پارٹی کے ہاتھ بلوچ کے لہوسے رنگین ہوں گے۔

انہوں نے کہا بلوچ سیاسی قیادت میں غلام محمد واحد رہنما تھے جنہوں نے انضمام کےوقت پوری سیاسی کھیپ کا اپنی سیاسی بصیرت اور بہادری سے تنہا مقابلہ کیا اور ثابت کردیا کہ کٹھ پتلی قیادت کے بکنے سے پارٹی نہیں بک سکتی ہے۔ ڈاکٹر مالک و حئی کے جھکنے سےپارٹی کارکن نہیں جھک سکتے ہیں۔ انہوں نے نہ صر ف پارٹی کو برقرار رکھا اور آج بی این ایم پوری دنیا میں آباد بلوچ یا جلاوطن سیاسی کارکنوں کی سیاسی آواز بن چکا ہے۔

دل مراد بلوچ نے کہا کہ بی این ڈی پی سے انضمام دراصل نوے کی دہائی سے شروع ہونےوالے انحراف کی تکمیل تھی۔ ڈاکٹر مالک و ڈاکٹر حئی یہ تہیہ کر چکے تھے کہ بی این ایم کا نام ونشان مٹا ڈالیں گے۔ جب واجہ چیئرمین نے ان منحرفین کا مقابلہ کیا تو ڈاکٹر مالک نے کہاتھا کہ ”بی این ایم لالامنیر سے شروع ہوکر غلام محمد پر ختم ہوجاتی ہے“، لیکن آج تاریخ یہ بھی ملاحظہ کررہی ہے کہ منحرف ٹولے کا نام ونشان مٹتا جارہا ہے اور چیئرمین غلام محمد بلوچ قومی حافظے کا انمٹ حصہ بن چکے ہیں۔

بی این ایم کے سابقہ فنانس سیکریٹری حاجی نصیر  بلوچ نے آن لائن دیوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن بلوچ قوم، بلوچ سرزمین اورقومی تحریک کے عظیم رہنماؤں نے بلوچ قومی آزادی کے لئے اپنے سر دان کردیئے۔

انہوں نے کہا کہ شہید واجہ غلام محمد،  لالامنیر  اور شیر محمد  کی زندگی کا مقصد صرف بلوچ قومی آزادی تھا۔ یہ تینوں رہنما نہ سردار تھے، نہ زردار بلکہ عام غریب بلوچ کی زندگی گزارنےوالے لوگ تھے۔ ان رہنما ؤں کی زندگیاں کھلی کتاب کی مانند ہیں۔ چیئرمین غلام محمد بلوچ مختلف مشکلات سے دوچار رہے۔ ان میں لوگوں کی جانب سے طنز اورشکوک وشبہات زیادہ تکلیف دہ تھے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب مرگاپ میں رہنماؤ ں کی لاشیں پھینک دی گئیں۔ کچھ لوگ شرمساری سے آنسو پونچھتے رہے۔

حاجی نصیر نے کہا آخری دن تھے کہ ہم سینئر ساتھیوں سے بات چیت کی توسب کا یہی خیال تھا واجہ کو زیر زمین رہ کر کام کرنا چاہئے، تو واجہ کا ایک ہی جواب تھا کہ جب تک ہم اس جدوجہد کو عام لوگوں تک نہیں پہنچائیں گے تو ہم ماضی کی تحریکوں سے مختلف نہیں ہوسکتے۔ آج اگر میں انڈرگراؤنڈ ہوگیا تو اس جدوجہد کی دفاع کے لئے میدان میں کوئی نہیں رہے گا۔ ایک نشست میں نواب مری نے یہ اقرار کیا کہ ہماری بارہ سالہ جلاوطنی کے بجائےہم اگر سرزمین پر ہوتے تو نتیجہ مختلف ہوتا اورممکن ہے کہ ہم منزل کے قریب ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ قومی تحریک میں مسلح جدوجہد کی اہمیت اپنی جگہ لیکن سیاسی اورجمہوری جدوجہد کے بغیر کسی بھی تحریک کی منزل تک پہنچنا ناممکن ہے۔ بلوچ قوم نے بھی اس کاخوب تجربہ کیا ہے۔  ہمارا ماضی گواہ ہے کہ محض مسلح جدوجہد کو ترجیح دے کر ہم نتائج حاصل نہیں کرسکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ واجہ چیئرمین سے جب بھی اس بارے میں سوال پوچھا جاتا تو وہ  یہی جواب دیتے کہ جدوجہد کے تمام حصوں کےدرمیان حدبندی ہونا لازمی ہے۔

حاجی نصیرنے کہا جب انضمام کے بعد نیشنل پارٹی وجود میں آئی تو اس وقت وہ سرکار کی آشیر باد سے بڑی طاقت تھی۔ اختر مینگل کے پاس بھی بڑی طاقت تھی لیکن بی این ایم نے  بلوچ قومی آزادی کے موقف پر بلوچستان اور پوری دنیا میں اپنا موقف واضح کردیا کہ بی این ایم پاکستانی پارلیمان کا حصہ نہیں بنے گا۔ کوئٹہ، خضدار، کراچی، تربت جیسے بڑےشہروں سمیت دیہی علاقوں میں ان بڑی بڑی پارٹیوں کا وجود ختم ہوگیا اور بی این ایم بلوچ کی سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی۔

انہوں نے کہا کہ آج جلاوطنی کے عالم میں ہم روڈوں پر مارچ کرتے ہیں، پمفلٹ تقسیم کرتے ہیں،احتجاج اور احتجاجی مظاہرہ کرتے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں۔ ہماری آواز صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہے۔ یورپ جوانسانی حقوق کے ریکارڈ پرفخر کرتاہے آج دو مہینے ہوچکےہیں کہ ایک نوجوان صحافی لاپتہ ہے جس نے بلوچ قوم، بلوچ جدوجہد کے لئے لکھا۔ ہم عاجزنظر آتے ہیں ہمیں اپنی آواز کو مزید توانا کرنا چاہیئے۔

حاجی نصیر بلوچ نے کہا غلام محمد اور لالامنیر نے بے حدتکالیف کا سامنا کیا لیکن اپنے آپ،خاندان اور قوم کے ساتھ غلط بیانی نہیں کی۔ ظاہر و باطن میں تفاوت نہ تھا۔ چیئرمین شہیدنے خود بھی لکھا کہ انہیں مراعات کی پیش کش ہوئی۔ نہ ماننے پرتشدد، مشکلات کا سامنا کیالیکن ضمیر اور اپنی قوم کا سودانہیں کیا۔

غلام محمد نے مجھے بتایاکہ جب مجھے کراچی سے گرفتار کیا گیا توان کا یہی سوال تھا کہ دیگرپارٹیوں کے پاس چار چارایم پی اے اور ایم این اے ہیں لیکن انہیں عوام میں کوئی پزیرائی نہیں،ان کاکوئی قد و بالاد نہیں۔ آپ ایم پی ہو، نہ ایم این اے،لیکن لوگ پھربھی آپ کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے مجھے دوبارہ پیش کش کی ہم آپ کو ایم پی اے،ایم این اے،سینٹربنائیں گے بس آپ آزادی کا نعرہ چھوڑدیں۔ لیکن غلام محمد جیسی ہستی نے یہ سب  ٹھکرا کر اپنا سر قربان کیا۔ شہید رہنماؤں کا لہو ہم سے یہی تقاضا کرتاہے کہ ہم اپنی قوم،سرزمین اور جدوجہد کے ساتھ مخلص رہیں۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ پہلی بار تربت میں جنوری 2002کو ہم چیئرمین غلام محمد سے ملے۔ہم سیشن کے لئے گئے تھے۔ ڈاکٹر اللہ نذر کی سربراہی میں سیشن کا  بائیکاٹ کیاتھا۔ بائیکاٹ کے بعد ہم پارک ہوٹل چلے گئے۔ اس وقت کے بی این ایم سے کچھ لوگ ہمیں منانےآئے تھے۔ ان میں چیئرمین غلام محمدبھی تھے۔ بات چیت کے بعد وہ چلے گئے تو ڈاکٹر اللہ نذر نے کہا کہ چیئرمین غلا م محمد کو شاید زبردستی بھیجا گیا ہے۔ ڈاکٹر اللہ نذرکی باتوں سےہمیں اندازہ ہوا کہ چیئرمین غلام محمد بھی اسی موقف کے حامی ہیں۔ چونکہ ہم نے کمپرومائزکے لئے سیشن کا بائیکاٹ نہیں کیاتھا لہٰذاان لوگوں کی بات چیت سے ہم اپنے موقف سےدست بردار نہیں ہوئے۔ ہم غیر پارلیمانی سیاست او ر بی ایس او کو آزاد کرنے کا پہلا قدم اٹھاچکے تھے۔ اس کے بعد زیادہ دیر نہیں گزری کہ انضمام کے بعد چیرمین غلام محمد نے بی این ایم کو نئے موقف کے ساتھ برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا چیئرمین غلام محمد کو بلوچ سیاست، بلوچ ادب پر دست رس حاصل تھا۔ سیاسی انتظامی امور پر ان کی کارکردگی ہمارے سامنے ہے۔ وہ عالم،فاضل انسان تھے۔ ایک دفعہ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے ہمیں بتایا کہ بلوچ سیاست میں چیئرمین غلا م محمد جیسا کوئی دوسراعالم انسان نہیں ہے۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے بتایا کہ انہوں نے ملافاضل پر ایک پروگرام رکھا۔ تمام مقررین کو ایک مہینے پہلے تیاری کا موقع ملا تھا۔ پروگرام سے ایک دن قبل اچانک غلام محمد ملے تو ہم نے انہیں بھی بلایا۔ تیاری نہ ہونے کے باوجود چیئرمین غلام محمد نے ملا فاضل کی شاعری کا دوسرے شعرا ء کے ساتھ تقابلی جائزہ  پیش کیا دوسرےمقررین ایک مہینے کی تیاری کے باوجود پیش نہیں کرسکے۔

نبی بخش بلوچ نے کہا شہدائے مرگاپ بلوچ قوم کے لئے سیاہ دن ہے۔ اس دن تین ایسےعظیم لیڈر ہم سے جداکئے گئے جو بلوچستان کے آزادی کے لئے برسرپیکار تھے۔ غلام محمدجنون کی حدتک سرزمین سے عشق کرتے تھے۔ بی این ایف کے پلیٹ فارم سے ان سےملاقاتیں ہوتی تھیں۔ اپنے اصولوں کی پاسداری میں وہ کامل انقلابی لیڈر تھے۔ ریاست نےان پر بہت زیادہ سختیاں کیں لیکن چیئرمین غلام محمد بلوچ اس سے کہیں زیادہ متحرک ہوگئے۔

انہوں نے کہا ایک بار بی ایس او کے اس وقت کے وائس چیئرمین ڈاکٹر امداد نے شکایت کی کہ مجھے کام کرنے سے روکا جارہاہے تو میں اور سنگت ثنا چیئرمین سے ملے اور امداد بلوچ کاگلہ سنایا تو ہنس کر بولے کام کرنے والوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔ میں ڈاکٹر کے مسائل سے واقف نہیں لیکن میں آپ لوگوں کو اختیار دیتاہوں کہ جاکر ڈاکٹرامداد سے کہہ دیں کہ آجائیں، پارٹی میں کام کریں، آپ جو کام کرسکتے ہیں کوئی انہیں نہیں روکے گا بشرطیکہ پارٹی آئین و منشور سے باہر نہ جائیں۔

نبی بخش بلوچ نے کہا کراچی، خضدار، کوئٹہ اور تربت میں ریاست بیک وقت ایف آئی آراور مقدمات کے ذریعے دباؤ بڑھا رہا تھ تاکہ غلام محمد بلوچ زیر زمین چلاجائے لیکن انھوں نے سرکاری حربوں کا مقابلہ کیا اور ان مقدمات اور پیشیوں کو موبلائزیشن کے لئے استعمال کرتے رہے، جہاں بھی پیشی کے لئے لوگوں سے ملتے۔

انہوں نے کہا جب چیئرمین غلام محمد بازیاب ہوئے تو میں اور چیئرمین خلیل بلوچ ان سےملنے گئے تو چیئرمین خلیل بلوچ نے واجہ سے کہا آپ ٹارچرسیل شدید تشدد اوراذیت سےدوچار رہے ہیں، جسمانی حالت کافی کمزورہے، آپ کچھ مدت کے لئے محفوظ جگہ چلے جائیں۔غلام محمد نے کہا کہ میں بھی جانتاہوں کہ سرکار مجھے قتل کرے گا لیکن شاید میرے قتل سےبلوچ کو کوئی فائدہ پہنچے گا تو نقصان کی بات نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز