شال ( ہمگام نیوز )مقبوضہ بلوچستان کے علاقہ شال اور دیگر علاقوں سے قابض فورسز خفیہ ایجنسیوں نے طالب علموں سمیت 9 افراد کو مختلف چھاپوں کے دوران حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ۔
تفصیلات کے مطابق
کیچ کے علاقہ گوگدان میں پاکستانی فورسز نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر تین نوجوانوں کو حراست میں لیکر بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ۔
ذرائع کے مطابق، چھاپہ محمد عمر دشتی کے گھر پر مارا گیا، جہاں ان کے نواسہ یحیٰی ولد وحید احمد اور ایک مہمان شیرجان ولد محمد انور کو حراست میں لیا۔ دوسری جانب روڈ پر ناکہ بندی کے دوران قریبی گھر سے واپس آ رہے بلال عزیز ولد حاجی عبدالعزیز نامی شخص کو بھی حراست میں لیکر نامعلوم جگہ منتقل کردیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ گرفتار نوجوانوں کے اہل خانہ کو ابھی تک ان کی موجودہ جگہ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی ۔
اسطرح کیچ کے علاقے کولواہ سے بھی دو افراد کو لاپتہ کیا گیا ہے جنکی شناخت منظور ولد محمد سکنہ آشال کولواہ اور بلال ولد اللہ بخش سکنہ آشال کولواہ کے نام سے ہوا ہے۔
علاوہ ازیں آواران کے علاقہ مشکے کچ سے پاکستانی فورسز نے ایک طالب علم سمیت دو افراد کو جبری لاپتہ کردیا ۔
علاقائی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز فورسز نے مشکے کے علاقہ کچ میں چھاپہ مار کر عبید غلام ولد غلام محمد جوکہ مزدور ہیں اور طالب علم شفیق احمد ولد رفیق کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام منتقل کردیا جس کے بعد دونوں لاپتہ ہیں ۔
دریں اثناء شال سے پولیس نےدو نوجوانوں 17 سالہ اسحاق شاہ ولد ابراہیم شاہ سکنہ کلی محمد حسنی بروری،جوکہ میونسپل کمیٹی میں ملازم ہیں کو 6 اکتوبر کو الصبح پانچ بجے پاک ترک سکول سپنی روڈ سے اس کے دوست طالب علم عبدالکریم ولد عبدالسلام سکنہ بروری ہمراہ ،حراست میں لیکر 8 گھنٹے پولیس تھانہ خروٹ آباد میں قید رکھنے بعد پھر آئی ایس آئی کے حوالہ کردیا جس کے بعد سے دونوں لاپتہ ہیں ۔


