زاہدان (ہمگام نیوز) ہفتہ 7 مارچ 2026 کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی کے مقبوضہ بلوچستان کے مختلف شہروں میں قابض ایرانی آرمی اور دیگر فوجی فورسز نے اسکولوں اور جامعات کے اندر اپنے مورچے قائم کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق چابہار، زاہدان، نیکشہر اور مقبوضہ بلوچستان کے دیگر شہروں میں فوجی اہلکار تعلیمی اداروں میں تعینات کیے گئے ہیں۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ حالیہ فوجی حملوں میں شدت اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کے خدشے کے پیش نظر بعض فوجی دستوں نے اپنا ساز و سامان اور دیگر فوجی آلات اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے اندر منتقل کر دیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق زاہدان، نیکشہر اور دیگر شہروں کے تعلیمی اداروں میں فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی ہے تاکہ ممکنہ حملوں کی صورت میں فوجی اڈوں کے بجائے ان مقامات کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ فوجی ساز و سامان بھی ان تعلیمی اداروں میں منتقل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ چابہار اور کنرک کے علاقوں میں تعینات فوجی دستوں کے درمیان بے چینی اور اضطراب کی فضا دیکھی جا رہی ہے، جبکہ بعض اہلکاروں کے حوصلوں میں کمی اور نظم و ضبط میں خلل کی علامات بھی سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق بڑھتی ہوئی سیکیورٹی کشیدگی کے باعث کچھ فوجی اہلکاروں نے اپنی تعیناتی کی جگہیں چھوڑ دی ہیں۔ اسی دوران یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ چابہار میں کاروبار یا ملازمت کے سلسلے میں مقیم بعض غیر مقامی شہری گزشتہ چند دنوں کے دوران شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔