زاہدان ( ہمگام نیوز ) سابق رکن پارلیمان معین‌الدین سعیدی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ:بلوچستان میں بلوچ عوام کی 95فیصد زمینیں، بغیر کسی کاشتکاری یا آثارِ کار کے، ایرانی حکومت کے سرکاری اداروں نے قبضہ کر کے انہیں “قومی زمینیں” (ملی اراضی) کے نام سے رجسٹرڈ کر لیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی رکنیت کے دوران تقریباً 4000 فائلیں کمیشنِ مادہ 56 کو بھیجی گئی تھیں، جن میں سے کچھ کیسوں میں زمینوں سے قبضہ ہٹانے کا فیصلہ عوام کے حق میں دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ زمینیں لوگوں کی آبائی و اجدادی جائیداد ہیں اور ان کا ذاتی و فطری حق ہے۔ قبضہ شدہ زمینیں اور مستثنیٰ اراضی عوام کو واپس کی جائیں۔