شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںنوانو زامران، تحصیل بلیدہ (ضلع کیچ) میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف...

نوانو زامران، تحصیل بلیدہ (ضلع کیچ) میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ضعیف العمر چرواہے کی جبری گمشدگی انتہائی افسوسناک باعث تشویش عمل ہے کامریڈ وسیم سفر بلوچ

کیچ (ہمگام نیوز)تحصیل بلیدہ، ضلع کیچ کا دور افتادہ قبائلی علاقہ نوانو زامران اس وقت شدید انسانی، معاشی اور سماجی بحران کا شکار ہے۔ جدید دور میں بھی یہ علاقہ صحت، تعلیم، مواصلات، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیاتِ زندگی سے مکمل طور پر محروم ہے، جہاں کے مکین صدیوں سے محدود زراعت اور مال مویشی پال کر اپنی روزی روٹی کماتے چلے آ رہے ہیں۔

مقامی آبادی کا انحصار پہاڑوں کے درمیان موجود چشموں کے پانی، چراگاہوں اور محدود نقل و حمل پر ہے۔ سال بھر میں چند بکریاں فروخت کر کے بمشکل گزر بسر کی جاتی ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران علاقے اور اس سے ملحقہ چراگاہوں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فوجی چوکیاں، حفاظتی دستے اور مسلسل نگرانی قائم کیے جانے کے بعد مقامی لوگوں کی معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو چکی ہیں۔

انتہائی افسوس کیساتھ کہنا پڑھ رہا ہے وہاں ایک ضیعف العمر چرواہے کی جبری گمشدگی کا واقعہ پیش آیا ہے نوانو زامران

علاقے کے لوگوں نے مشترکہ طور پر ایک ضعیف اور نہایت غریب چرواہے بور جان ولد محمد غوث (ساکن چاغی) کو گاؤں کی بکریوں کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کیا تھا، جو صرف 25 ہزار روپے ماہانہ پر مزدوری کر رہا تھا۔

8 ستمبر 2025 کی صبح بور جان حسبِ معمول بکریاں چرا کر جنگل کی طرف گئے، مگر اسی دن سے لاپتا ہیں

مقامی لوگوں کے مطابق بور جان کو سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا، تاہم تین ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود

نہ ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں

نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے

یہ عمل پاکستان کے آئین، ملکی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اجتماعی خوف، معاشی تباہی اور نقل مکانی

ان واقعات کے بعد پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے:

مزدور اور چرواہے علاقے میں کام کرنے سے گریز کر رہے ہیں

چراگاہوں تک رسائی محدود ہونے کے باعث جنگلی جانور مویشیوں پر حملے کر رہے ہیں

روزانہ 5 سے 10 بکریاں گمشدہ ہو رہی ہیں، جن کی فی قیمت 30 ہزار روپے سے اوپر ہے

کئی خاندان حالات سے تنگ آ کر نقل مکانی کر چکے ہیں، جبکہ باقی آبادی خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے

ہم ملکی و بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی، میڈیا اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ

بور جان ولد محمد غوث کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے

اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے

علاقے کے عوام کی معاشی سرگرمیوں اور نقل و حرکت پر عائد غیر اعلانیہ پابندیاں ختم کی جائیں

مقامی لوگوں کے بنیادی حقوق، بالخصوص روزگار، چراگاہوں تک رسائی اور آزادانہ نقل و حرکت کو بحال کیا جائے

متاثرہ خاندانوں کو مکمل تحفظ اور مناسب انسانی امداد فراہم کی جائے

ہم واضح کرتے ہیں کہ نوانو زامران کے پُرامن شہریوں کے ساتھ جاری یہ طرزِ عمل نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دے رہا ہے، جس پر فوری توجہ اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز