یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںنیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی پندرھویں مرکزی آرگنائزنگ باڈی اجلاس شال میں منعقد،غنی...

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی پندرھویں مرکزی آرگنائزنگ باڈی اجلاس شال میں منعقد،غنی بلوچ کی نشست علامتی طور پر خالی چھوڈ دی گئی۔ این ڈی پی

شال (ہمگام نیوز) نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی پندرھویں مرکزی آرگنائزنگ باڈی اجلاس بمورخہ نو اگست 2025 بمقام شال منعقد ہوا، جس کی صدارت پارٹی کے مرکزی آرگنائزر شاہ زیب بلوچ ایڈوکیٹ نے کی۔ اجلاس میں سیکریٹری رپورٹ، رپورٹ برائے متفرق کمیٹیاں، تنقید برائے تعمیر، عالمی و علاقائی سیاسی صورتحال، تنظیمی امور اور آئندہ لائحہ عمل شامل تھے۔ جبری طور پر گمشدہ مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن غنی بلوچ کی نشست ان کے احترام میں خالی چھوڑ دی گئی۔ اس علامتی عمل کا مقصد واضح کرنا تھا کہ پارٹی اپنے ساتھیوں کی قربانیوں اور موجودہ ریاستی جبر کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ یہ علامتی عمل اجلاس کے آغاز ہی سے ایک سنجیدہ اور احتجاجی فضا قائم کر گیا۔

 اجلاس کے آغاز شہدائے بلوچستان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے کیا گیا جس کے بعد باقائدہ ایجنڈوں پر عمل درآمد کیا گیا۔

پہلے ایجنڈے میں ڈپٹی آرگنائزر نے سیکریٹری رپورٹ پیش کیا، جس میں گزشتہ عرصے کی سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں، کامیابیوں، چیلنجز اور مختلف شعبوں میں پیش رفت کی تفصیل بیان کی گئی۔

سیکریٹری رپورٹ کے بعد مختلف کمیٹیوں کے نمائندوں نے اپنی اپنی کارکردگی رپورٹس پیش کیں۔ ان رپورٹس میں جاری سرگرمیوں، اہداف، وسائل کے استعمال اور عوامی رسائی کے اقدامات کا احاطہ کیا گیا۔

اس کے بعد تنقید برائے تعمیر کے ایجنڈے کے تحت تمام رپورٹوں سمیت گزشتہ کارکردگی پر کھل کر بحث کی گئی۔ شرکاء نے مثبت پہلوؤں کو سراہا اور جہاں کمی یا خامی نظر آئی، وہاں تعمیری تجاویز پیش کیں۔

تیسرے ایجنڈے میں بین الاقوامی امور پر بات کرتے ہوئے شرکاء نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ “پولیٹیکل بیلنس” کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں، جس کے تحت وہ بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھتے ہوئے اپنے قومی و معاشی مفادات کو مقدم رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں روس، چین، بھارت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر تفصیلی بحث ہوئی۔ موجودہ دور کی جنگوں اور ان میں ثالثی کی مثالوں پر بھی روشنی ڈالی گئی، خاص طور پر ایران-اسرائیل جنگ میں امریکہ کی شراکت اور کردار پر بات کی گئی۔

رہنماؤں نے کہا کہ دنیا نئے نظریات اور رجحانات کی طرف بڑھ رہی ہے، جن میں سب سے نمایاں ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت ہیں۔ یہ محض روزگار اور کاروبار کے طریقے نہیں بدلیں گے بلکہ معاشرتی ڈھانچے، طاقت کی تقسیم، اور ممکنہ طور پر موجودہ سیاسی نظام جیسے لبرل جمہوریت اور سرمایہ دارانہ ڈھانچے کو بھی بدل سکتے ہیں۔ ممکن ہے مستقبل میں ان کی جگہ ایک بالکل نیا نظام لے جو سماجی، معاشی اور انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی لائے۔

بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہاں جاری آپریشن اور گرفتاریوں کا سلسلہ محض سیکورٹی خدشات یا جرائم کی روک تھام کے لیے نہیں بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا سیاسی کریک ڈاؤن ہے، جس کا ہدف باشعور سیاسی کارکن، طلبہ رہنما اور فکری مزاحمت کرنے والے لوگ ہیں۔ اس کریک ڈاؤن کا مقصد عوام کو سیاسی عمل سے دور رکھنا اور مزاحمت کی ہر آواز کو خاموش کرنا ہے۔

بلوچ سیاسی کارکنوں پر کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا گیا، بارکھان سمیت بلوچستان بھر میں سیاسی کارکنوں کو حراساں کیا جا رہا ہے، سینکڑوں جبری طور گمشدہ ہوئے جبکہ کئی کارکنوں کو حراساں کرنے کے لیے چادر و چاردیوالی کی پامالیاں کی جا رہی ہیں جبکہ کراچی سے زکریہ بلوچ، زاھد بلوچ سمیت دیگر کی جبری گمشدگیاں بھی اس سلسلے کی کڑی ہیں۔ بی وائے سی کی قیادت کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، بالخصوص ڈاکٹر ماہ‌رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو طویل عرصے سے جسمانی ریمانڈ اور عدالتی حراست میں رکھنے، اور ججوں کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھنے کو ایک خطرناک نظیر قرار دیا گیا۔ اجلاس میں اس امر کی مذمت کی گئی کہ سیاسی کارکنوں کے لیے سیاسی سرگرمیوں کا راستہ تنگ کیا جا رہا ہے، انہیں احتجاج اور اظہارِ رائے سے روکنے کے لیے ہراسانی، گرفتاریوں، اور عدالتی کارروائی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اسلام آباد میں جاری لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنے کو ہراساں کرنے اور احتجاج کو محدود کرنے کے اقدامات کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا گیا۔

جبری گمشدگیوں میں مسلسل اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ماروائے آئین قتل، ڈیتھ اسکواڈ کی طاقت میں اچانک اضافہ، اور لوگوں کو قتل کرنے کی کھلی چھوٹ دینا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ مستقبل میں بلوچستان میں خانہ جنگی جیسے حالات پیدا کر سکتا ہے۔ شرکاء نے زور دیا کہ ایسے اقدامات سیاسی و سماجی اعتماد کو تباہ کرتے ہیں اور قوم پرستی کی تحریک کو کمزور کرنے کی سامراجی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ ایسے واقعات سماج کو متحرک اور منظم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں، کیونکہ یہ عوام کے جذبات، خوف اور قومی شناخت کے احساس کو بیک وقت متاثر کرتے ہیں۔ بلوچستان میں جاری موجودہ کریک ڈاؤن ایک سیاسی نوعیت کا ہے، جس کا اصل مقصد باشعور سیاسی کارکنوں، طلبہ رہنماؤں اور فکری مزاحمت کو نشانہ بنانا ہے، تاکہ سیاسی تحریکوں کو کمزور اور عوام کو سیاسی عمل سے دور رکھا جا سکے۔

سامراجی پالیسیوں کے تحت عوام کو سیاسی و فکری طور پر کرپٹ کیا جا رہا ہے، جبکہ معاشی دباؤ ڈال کر انہیں کرپشن کی طرف مائل کیا جا رہا ہے، جس سے معاشرتی ڈھانچہ مزید کمزور ہوتا ہے۔ بارڈر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ ریاستی استحصالی منصوبے نہ صرف معیشت اور تجارت پر قابو پانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں بلکہ انہیں سیاسی کارکنوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر بھی بروئے کار لایا جا رہا ہے۔

عام عوام کے لیے سب سے زیادہ مؤثر وہ “مقامی دانشور” ہوتے ہیں، جو براہِ راست ان کے اردگرد کے ماحول سے جڑے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار پارٹی کا بیانیہ یا قومی سیاست کی مرکزی سوچ ان تک نہیں پہنچ پاتی، جبکہ بلوچ دانشور جو مین اسٹریم میڈیا، کتابوں یا سوشل میڈیا کے ذریعے بات کرتے ہیں، ان کی رسائی محدود حلقوں تک رہ جاتی ہے۔ چنانچہ عوام کی ایک بڑی تعداد اپنے اپنے مقامی دانشوروں سے متاثر ہوتی ہے، اور انہی کے نظریات عوامی بیانیہ بن کر اثر انداز ہوتے ہیں۔

میڈیا اور مواد کے حوالے سے کہا گیا کہ سیاسی کارکنوں کو اس پروپیگنڈے اور مواد پر توجہ دینی چاہیے جو بیانیہ کی تشکیل میں استعمال ہو رہا ہے، تاکہ سیاست اور قوم پرستی کو بیانیہ میں مرکزی مقام ملے۔ سچ تو بہت سے لوگ بولتے اور لکھتے ہیں، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس سچ کو کس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس لیے پریزنٹیشن کے معیار اور اس کے اثر انگیز انداز پر محنت ضروری ہے۔

اجلاس میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ ممکن ہے بلوچستان کا ساحلی پٹی امریکہ کو لیز پر دی جائے، تاکہ وہ اپنی تیل اور دیگر ضروریات وہاں سے پوری کر سکے اور ایران کی جارحانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اس خطے میں اپنی رسد کو مضبوط بنائے۔ رہنماؤں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطے کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اس لیے ان کے مضمرات پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔

سامراجی پالیسیوں کے تحت اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ کے اپنے لوگوں میں سے کسی کو “مظلوم کی آواز” اور “قوم کا نمائندہ” بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تاکہ اسے آپ کا رہنما بنایا جا سکے۔ باشعور کارکنوں کو اس حکمت عملی کو پہچاننا اور سمجھنا ضروری ہے۔ قوم پرست تحریک کے اسٹیک ہولڈرز کو ادراک ہونا چاہیے کہ کچھ پالیسیاں دیرپا اثرات رکھتی ہیں، اس لیے مستقبل میں قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے کے لیے درست اور بروقت فیصلے لینا ناگزیر ہے۔ اسی طرح مستقبل قریب میں کسی سول وار کے خطرے سے بچنا بھی اہم ہے، کیونکہ بعض پالیسیاں، جیسے انصاف کا فقدان، طاقت کا بے لگام استعمال اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی، داخلی تنازعات کو بھڑکا سکتی ہیں۔

علاقائی اور قبائلی جنگوں کو بھی سامراجی پالیسیوں کے تحت تقویت دی جاتی ہے، اور سیاسی جماعتوں کو اس عمل میں اپنا واضح اور فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

چوتھے ایجنڈے میں نظریات پر بحث کرتے ہوئے کہا گیا کہ چونکہ مارکسزم نے خود کو مظلوموں کا نظریہ قرار دیا، اسی لیے قومی تحریکیں اس سے متاثر ہوئیں، اور مارکسسٹ لٹریچر بلوچ معاشرے میں بڑی حد تک جگہ بنا گیا۔ ہم نے مارکس اور دنیا کی دیگر تحریکوں کو پڑھا اور سمجھا، لیکن بعض اوقات ہم نے معروضی اور موضوعی حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے ان نظریات کو جوں کا توں نافذ کرنے کی کوشش کی، جو ممکن نہ تھی۔

 اس لیے ضروری ہے کہ معروضی و موضوعی حالات کو نظرانداز نہ کیا جائے، اور اپنے ادب و لٹریچر کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپڈیٹ کیا جائے۔ بلوچ معاشرے میں مذہبی اور قبائلی اسٹرکچر صدیوں پرانے ہیں، جو ارتقائی عمل سے گزرتے ہوئے آج کی موجودہ شکل میں پہنچے ہیں۔ نوری نصیر خان کے دور میں تشکیل پانے والا قبائلی ڈھانچہ، جس پر مذہب کا گہرا اثر تھا، بنیادی طور پر اب تک اپنی پرانی صورت میں موجود ہے اور اس میں کوئی قابل ذکر نظریاتی یا اسٹرکچرل انویشن نہیں آئی۔ اس کے برعکس دنیا کے دیگر خطوں میں قبائلی نظام نے وقت کے ساتھ خود کو جدید کیا۔

اسی طرح دنیا کے دیگر تحریکوں میں بھی وقتاً فوقتاً انویشن اور تبدیلی کے اثرات دیکھنے کو ملے۔ لیکن بلوچ معاشرے میں اگر قدامت پسندی اور رجعت پسندی کا غلبہ برقرار رہا اور کوئی فکری و عملی رینویشن نہ لائی گئی تو اس کا نتیجہ داخلی خانہ جنگی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اس خطرے سے بچنے کے لیے قوم کو اپنی مرکزی قوت کو مضبوط کرتے ہوئے واضح پلان، اسٹریٹیجی اور مؤقف اپنانا ہوگا۔ رہنماؤں نے نطشے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح اس نے مذہب سمیت دیگر سماجی قوتوں میں فکری انویشن پیدا کی، اسی طرح بلوچ معاشرے کو بھی اپنے فکری ڈھانچے میں تبدیلی اور جدیدیت لانے کی ضرورت ہے۔

بلوچ قومی حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ بلوچ عوام معاشرتی آزادی کے ساتھ طاقت حاصل کریں، جو طبقاتی، معاشرتی، معاشی، سیاسی اور شخصی آزادی کی ضمانت دے۔ اس مقصد کے لیے عوام میں شعور پیدا کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ عوامی شعور ہی تحریک کی اصل طاقت ہے۔ اس لیے سیاسی تربیت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے.

حالات کا درست ادراک اور تجزیہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ پارٹی کو چاہیے کہ ادارہ جاتی طرز پر سیاست کرے اور اگرچہ پیش رفت کی رفتار سست ہو، مگر جہدِ مسلسل ہی کامیابی کی حقیقی ضمانت ہے۔

بلوچستان میں، جہاں سیاست کرنا گویا جرم بنا دیا گیا ہے، سیاسی کارکنان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام میں یہ شعور اجاگر کریں کہ بلوچ قوم کی نجات اس وقت ہی ممکن ہے جب ایک مضبوط، سیاسی طور پر باشعور، اور تنظیمی تربیت یافتہ کیڈر دستیاب ہو۔ کوئی بھی تحریک عوامی حمایت کے بغیر کامیابی تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ جہدِ مسلسل کو ترجیح دی جائے۔

ایسے معاشرے میں، جہاں مظلوم عوام کے سامنے ایک بے رحم اور انسانی حقوق سے عاری استعماری قوت موجود ہو، کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کے لیے ہر وقت تیار رہنا ناگزیر ہے۔

آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے میں تمام امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور پارٹی کو مزید فعال، منظم اور مؤثر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اس موقع پر تنظیمی ڈھانچے کی مضبوطی، عوامی رابطہ مہم کی توسیع، اور کارکنان کی تربیت کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید برآں، سنگت اشفاق بلوچ کی ذاتی مصروفیات کے باعث دیے گئے استعفیٰ کو، رابطہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں، باضابطہ طور پر قبول کیا گیا، اور تنظیم میں ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے سراہا گیا۔ ساتھ ہی یہ عزم ظاہر کیا گیا کہ ہر رکن اپنی استطاعت کے مطابق پارٹی کے نصب العین اور جدوجہد کو جاری رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز