کوالالمپور (ہمگام نیوز) – 27 اکتوبر: 2025/ ملائیشیا میں پیر کے روز عالمی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آسیان (جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم) سمٹ سے روانگی کے بعد خطے میں بڑھتے ہوئے امریکی محصولات کے خدشات کے سائے میں معاشی اور تجارتی تعلقات کو مستحکم بنانے پر غور کیا گیا۔

ٹرمپ نے اپنے ایشیائی دورے کے آغاز پر اتوار کو کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جنگ بندی کے توسیعی معاہدے اور چار علاقائی تجارتی معاہدوں کی نگرانی کی۔ تاہم، وائٹ ہاؤس کے مطابق ان معاہدوں میں کمبوڈیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور ویتنام پر عائد سخت امریکی محصولات میں کوئی کمی نہیں کی گئی، البتہ چند ممکنہ رعایتوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا، “جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ امریکا آپ کے ساتھ 100 فیصد کھڑا ہے، اور ہم کئی نسلوں تک ایک مضبوط شراکت دار رہیں گے۔”

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی اور چینی مذاکرات کاروں نے باہمی تجارتی جنگ میں محصولات کے نفاذ میں وقتی وقفے پر اتفاق کیا۔

چینی حکام تجارتی کثیرالجہتی کے حامی

ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے جاپان روانہ ہونے کے بعد، چین، برازیل، کینیڈا، یورپی کونسل اور آسیان کے 11 رکنی بلاک کے رہنما معاشی شراکت داریوں کو مستحکم کرنے اور نئے تجارتی معاہدوں پر بات چیت جاری رکھیں گے۔

چینی حکام سے توقع ہے کہ وہ تجارتی کثیرالجہتی کو فروغ دینے اور خطے میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔

دوسری جانب، چین کی حمایت یافتہ علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (RCEP) کے اجلاس کی بھی تیاریاں جاری ہیں، جس میں آسیان کے 10 ممالک کے ساتھ آسٹریلیا، جاپان، نیوزی لینڈ اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔

یہ دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک ہے جو عالمی معیشت کے تقریباً 30 فیصد حصے پر محیط ہے۔ ماہرین کے مطابق RCEP امریکی محصولات کے ممکنہ اثرات کے خلاف ایک متوازن قوت بن سکتا ہے۔

یورپی یونین اور چین میں تجارتی خدشات پر گفتگو

یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے چینی وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات میں بیجنگ کی جانب سے اہم خام مال پر برآمدی پابندیوں کے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔

کوسٹا کے مطابق، انہوں نے چین سے سپلائی چین کو قابلِ اعتماد اور مستحکم بنانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا، اور ساتھ ہی یوکرین میں روسی جنگ کے خاتمے کے لیے تعاون کی درخواست بھی کی۔

نایاب ارضی دھاتیں اور معدنیات بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی کشیدگی کا مرکزی نکتہ بن چکی ہیں، کیونکہ چین عالمی سپلائی کے 90 فیصد حصے پر قابض ہے اور اسے امریکی محصولات کے مقابلے میں سفارتی دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

برازیل اور امریکا کے درمیان مثبت اشارے

برازیلی صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے بتایا کہ ان کی ٹرمپ سے ملاقات میں زیادہ موافق تجارتی معاہدے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

امریکا نے سابق صدر جائر بولسونارو کی سزا کے بعد برازیلی مصنوعات پر 50 فیصد محصولات عائد کر رکھے ہیں۔

لولا نے کہا، “میں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ جنوبی امریکا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے ناتے برازیل کے تجربے کو تسلیم کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ہم تقریباً پورے براعظم کے ہمسایہ ہیں۔”

آسیان کے رکن ممالک

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) میں برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ، مشرقی تیمور اور ویتنام شامل ہیں۔