لندن (ہمگام نیوز) آزادی پسند بلوچ رہنماء اور فری بلوچستان موومنٹ کے قائد حیربیار مری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک پر جاری ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے مطابق جرمنی اور جاپان مشترکہ سرحد رکھتے ہیں۔ پاکستانی وزیراعظم کے مطابق دونوں ممالک نے اپنی سرحدی علاقوں میں مشترکہ کارخانے بنائے ہیں جس کی وجہ سے اب وہ مزید آپس میں نہیں لڑتے کیونکہ اب وہ ایک مشترک معاشی مفادات کے بندھن میں بندھ گئے ہیں۔
بلوچ رہنماء نے کہا یہ ایک عام سی بات ہے جو ہر کسی کے علم میں ہے کہ جرمنی یورپ میں واقع ہے اور جاپان براعظم ایشیا کے مشرق میں واقع ایک جزیرہ نما ملک ہے اور ان کی محل وقوع کے اعتبار سے جرمنی اور جاپان کی سرحد مشترک ہو ہی نہیں سکتی۔
بلوچ رہنماء حیربیار مری نے مزید کہا کہ میں یہ کہوں گا کہ پاکستان اور بلوچستان کے آپسی رشتے میں جرمنی اور جاپان کی سرحدوں جتنی قربت ہیں ۔ ایک خطے کے امن و استحکام کا مکمل دارومدار دوسری اقوام کی آزادی و خود مختاری کے احترام میں مضمر ہے۔ ترقی اور خوشحالی کمزور اقوام کے خلاف سازشوں، ان کو فتح کرنے اور قبضہ کرنے سے نہیں آتی۔ جرمنی اور جاپان نے ایک دوسرے کو فتح نہیں کیا اور نہ ہی ایک دوسرے کی خودمختاری ختم کرکے ان کی زمین پر قابض ہوئے، یہی وجہ ہے کہ وہاں امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی ہیں ۔
بلوچ رہنماء نے مزید کہا کہ بلوچ پاکستانی قبضے کے خلاف مذاہمت کرتے رہے ہیں جو ہنوز جاری ہے، پاکستان جو خود ایک مصنوعی ملک ہے جس کے وجود کی بنیاد ہی دوسرے مذاہب سے نفرت ہے۔ 13 اگست 1947 کو یہ ملک انڈیا تھا اور راتوں رات اگلے ہی دن 14 اگست 1947 کو یہ پاکستان بن گیا۔ اقوام، ان کی شناخت اور ثقافت کو صدیوں اور ہزاروں برس کے ارتقاء کی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، یہ ایک رات کو معرض وجود میں آنے والی شے نہیں ہیں۔
بلوچ رہنماء نے مزید کہاچونکہ بلوچستان اور پاکستان(جس کو ہندوستان سے کاٹ کر الگ کیا گیا) مشترکہ سرحدیں رکھتے ہیں اور مشترکہ سرحدوں کا ہوناکسی ملک یا قوم کے لئے ایک دوسرے آزاد و خودمختار قوم پر قبضہ اور اسکی قومی شناخت مٹانے کی کوئی اخلاقی جواز یا دلیل فراہم نہیں کرتا۔
According to Pakistani PM, Imran Khan, Germany and Japan share borders. He said both countries have joint industries on their border regions and they do not fight anymore because their economic interests are tied together. It is common knowledge that Germany is in Europe and Japan (an island country) is in East Asia, there cannot be a geographic border between them. I would say Pakistan and Balochistan’s relations and ties with each other are also as close as the borders of Germany and Japan. In a region, peace and tranquility come only when one nation respects another nation and its sovereignty. That is how progress and prosperity comes, not by capturing and conquering another nation. Germany and Japan have not occupied each other’s land; therefore, there is harmony and prosperity.
The Baloch have been resisting Pakistani occupation, which in itself is an artificial country created on the basis of hatred for other religions. On 13th August 1947, it was India and the next day on 14th August 1947, it became Pakistan. Nations, their identities and cultures have to go through the social evolution of over hundreds or thousands of years, it does not happen overnight.
Although Balochistan and Pakistan – which was carved out of India – share borders, that does not imply or justify the occupation of a free nation and the dilution of one’s national identity by another nation.