ہمگام نیوز): اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ظلم کی مخالفت کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے، مگر پاکستان کے اہل سنت علما اور ایران کے شیعہ مراجع تقلید مسلسل ان ریاستی مظالم کی حمایت کرتے چلے آ رہے ہیں، جن کا نشانہ بلوچ قوم ہے۔
صحیح مسلم کی متعدد احادیث میں نبی کریم ﷺ نے ان علما سے خبردار کیا جو اپنے علم کو گمراہی کے لیے استعمال کریں گے۔ مگر پاکستان اور ایران میں ریاستی مذہب پرست طبقہ انہی پیش گوئیوں کا عملی عکس بن چکا ہے۔
پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک، پنجابی اہل سنت مفتیانِ کرام — خصوصاً مفتی شفیع عثمانی اور ان کے بعد آنے والے علما — پاکستان کی ہر جارحانہ پالیسی کا مذہبی جواز گھڑتے رہے ہیں۔ 1948 میں بلوچستان پر فوجی قبضے پر بھی انہی علما نے خاموشی اختیار کی، بلکہ اسے تقویت اسلام سے تعبیر کیا۔ اسی طرح ایران میں شیعہ مراجع تقلید، انقلابِ خمینی کے بعد ریاستی جبر کے معاون و نگران بن گئے۔
آج، بلوچ قوم دو طرفہ مذہبی ریاستی جبر کی زد میں ہے: ایک طرف سنی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ، اور دوسری طرف شیعہ ایرانی رجیم۔ دونوں نے اپنے درباری علما کے فتووں سے بلوچوں کے خون کو مباح قرار دے رکھا ہے، مگر فلسطین کے لیے ان کے خطبے اور آنسو ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔
بلوچوں کے قتل عام پر ان دونوں مذہبی طبقات کی خاموشی، ان کی مذہبی منافقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس سے یہ حقیقت مزید نمایاں ہوتی ہے کہ بلوچ مسئلہ مذہبی نہیں، بلکہ قومی ہے، جس میں دین کا سہارا لے کر قابض ریاستیں بلوچ وسائل کی لوٹ مار اور نسل کشی کر رہی ہیں۔
بلوچ قوم کو ان ریاستی مذہبی فریبوں سے ہوشیار ہو کر، مذہب کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے بلوچ نیشنلزم کے تحت اپنی آزادی کی جدوجہد کو منظم اور متحد کرنا ہوگا۔ یہی واحد راستہ ہے جس سے نہ صرف پنجابی و فارسی ملاؤں کی منافقت کو بےنقاب کیا جا سکتا ہے بلکہ بلوچ قوم کو قومی نجات کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔















