شال (ہمگام نیوز)ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ جب ریاستِ پاکستان پُرامن جدوجہد کے تمام راستے خود بند کر دیتی ہے تو وہ عوام کو مایوسی، بے بسی اور بالآخر تشدد کی طرف دھکیلتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک شعوری پالیسی کی عکاس ہے۔
نادیہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں ایک طاقتور طبقہ موجود ہے جسے وہ “جنگی منافع خور” قرار دیتی ہیں، جو مسائل کے پُرامن حل کے خلاف ہے کیونکہ تشدد میں اضافے سے ان کی اہمیت، اختیار اور وسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کے بقول، یہی طبقہ نہیں چاہتا کہ سیاسی اور پُرامن طریقوں سے مسائل حل ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماہ رنگ بلوچ نے پُرامن اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے بلوچ نوجوانوں میں یہ امید پیدا کی تھی کہ بغیر ہتھیار اٹھائے بھی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی جا سکتی ہے۔ ہزاروں نوجوان اسی یقین کے تحت تشدد سے دور رہے، تاہم ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری نے اس امید کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
نادیہ بلوچ کے مطابق، جب ریاست اختلافِ رائے کو جرم بنا دے، پُرامن احتجاج کو کچل دے اور سیاسی عمل کو ناممکن بنا دے تو وہ خود انتہاپسندی کے لیے زمین ہموار کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نوجوان پُرامن سیاست سے بددل ہو رہے ہیں تو اس کی ذمہ داری ریاستِ پاکستان اور حکمران اشرافیہ پر عائد ہوگی، جنہوں نے بلوچ نوجوانوں کے لیے سیاسی اور پُرامن راستے اپنے فیصلوں سے بند کر دیے ہیں۔


