شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںپہرہ میں انٹیلیجنس اہلکاروں کے ہاتھوں تشدد کا شکار "رضا شہلی بر"...

پہرہ میں انٹیلیجنس اہلکاروں کے ہاتھوں تشدد کا شکار “رضا شہلی بر” کی تصاویر وائرل ہوگئے

پہرہ ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے علاقہ پہرہ میں جمعرات کی شام 11 ستمبر کو “رضا شہلی بر” (یوسف شہلی بر کے چچا) کی رہائی کے چند گھنٹے بعد ایسی تصاویر شائع ہوئیں جو ان کی حراست کے دوران شدید تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ان تصاویر میں ان کے چہرے اور کان پر واضح زخم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں اور پیروں پر شدید سوجن اور نیل پڑے ہوئے ہیں جبکہ کمر پر بھی بدترین تشدد کے نشانات موجود ہیں۔

رضا شہلی بر کو منگل 18 ستمبر کو سراوان کے قریب “ہوشک” پولیس چوکی کے نزدیک سادہ لباس اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ چند دن لاپتہ رکھنے کے بعد، انہیں ایرانشہر میں والدہ کے گھر کے سامنے اس حالت میں چھوڑ دیا گیا کہ ان کے جسم پر تشدد کے گہرے آثار موجود تھے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران، وہ اپنے بھتیجے کے قتل کے کیس کو آگے بڑھانے کی وجہ سے بارہا سیکیورٹی اداروں کے دباؤ اور دھمکیوں کا شکار رہے ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس امر کو نمایاں کرتا ہے کہ بلوچ دادخواہ خاندانوں کے ساتھ انٹیلیجنس ادارے کس قدر پرتشدد اور جابرانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز