پیرس( ہمگام نیوز ) صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کی عالمی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران دنیا بھر میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران 67 صحافی ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر جنگوں یا جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا نشانہ بنے۔
دسمبر 2024 کے آغاز سے دسمبر 2025 کے آغاز تک یہ تعداد پچھلے برس کے مقابلے میں تقریباً برابر رہی۔
صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک جگہ غزہ پٹی رہی، جہاں 29 صحافی مارے گئے جبکہ میکسیکو دوسرے نمبر پر رہا جہاں نو صحافی ہلاک ہوئے۔
جرمنی میں آر ایس ایف کی سربراہ آنیا اوسٹر ہاؤس نے کہا کہ ہر ہلاک یا قید ہونے والا صحافی اس بات کی تنبیہ ہے کہ صحافیوں پر حملے دراصل عوام کے حقِ معلومات پر حملہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی حکومتوں کو اقدام کرنا ہو گا، کیونکہ جب تنقیدی رپورٹنگ کرنے والوں کو اپنی آزادی یا جان کا خوف ہو تو پوری دنیا میں جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت 62 ممالک میں 503 صحافی قید ہیں، جو گزشتہ سال سے کچھ کم ہیں۔ چین 121 قیدی صحافیوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، روس 48 اور میانمار 47 کے ساتھ اس کے بعد ہیں۔ روس سب سے زیادہ غیر ملکی صحافیوں کو قید کیے ہوئے ہے، جن میں 26 یوکرینی شامل ہیں، جبکہ اسرائیل 20 فلسطینی صحافیوں کو حراست میں رکھے ہوئے ہے۔
مزید 135 میڈیا کارکن لاپتا ہیں، جن میں سے کچھ دہائیوں سے غائب ہیں۔ 137 ممالک میں صحافیوں کے لاپتا ہونے کے واقعات درج ہیں، جن میں زیادہ تر کیسز مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکہ سے ہیں۔
شام بری طرح متاثر ہوا ہے جہاں بشار الاسد کے دور میں کئی صحافی غائب ہوئے، جبکہ داعش کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے صحافی بھی آر ایس ایف کی فہرست میں لاپتا شمار ہوتے ہیں۔ میکسیکو لاپتا صحافیوں کے کیسز میں دوسرے نمبر پر ہے۔














