چابہار (ہمگام نیوز) رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں، چابہار میں سپاہ پاسداران کے امام علی بیس کو امریکا اور اسرائیل کی کارروائی میں مکمل طور پر تباہ کیے جانے کے بعد، ایران کی سپاہ پاسداران نے کوہِ لکی کے علاقے میں موجود سرنگوں سے میزائل خفیہ طور پر نکالنے کا عمل شروع کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ میزائل ٹرالر لانچروں کے ذریعے منتقل کر کے کنرک کے صنعتی واٹر ڈیسالینیشن پلانٹ تک پہنچائے گئے، جہاں سے انہیں فائر کیا گیا۔ کوہِ لکی کو سپاہ پاسداران کے میزائل ذخیرے اور خفیہ سرنگوں کے ایک اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے، جبکہ کنرک کا واٹر ڈیسالینیشن پلانٹ اس کارروائی میں میزائل لانچنگ پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
کوہِ لکی اور کنرک کے واٹر پلانٹ کے اطراف حالیہ فوجی نقل و حرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی حکومت جنوب میں واقع ان خفیہ میزائل گوداموں اور سرنگوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے میزائل پروگرام کو جاری رکھنے اور اہم اسٹریٹجک علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان سرگرمیوں نے چابہار کے رہائشیوں اور بندرگاہ کے اطراف جاری معاشی سرگرمیوں کے لیے سکیورٹی خدشات پیدا کر دیے ہیں، جبکہ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی پیش رفت خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔















