سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںچیئرمین جاوید بلوچ اور شال زون کے جنرل سیکریٹری گہرام اسحاق کی...

چیئرمین جاوید بلوچ اور شال زون کے جنرل سیکریٹری گہرام اسحاق کی جبری گمشدگی کو تین ماہ مکمل ہوچکے ہیں کوئی عدالتی پیشرفت نہیں ۔بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ

شال ( ہمگام نیوز ) بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بلوچستان میں جاری ریاستی جبر و بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست بلوچ طلباء اور سیاسی کارکنان کو خاموش کرانے اور ان کی پرامن جدوجہد کو روکنے کے لیے روز بروز نئے حربے استعمال کر رہی ہے۔ اب صرف ماورائے عدالت جبری گمشدگیاں اور قتل ہی ریاستی ہتھیار نہیں رہے، بلکہ طلباء کی تعلیمی اداروں سے بے دخلی، پروفائلنگ اور مسلسل ہراسانی بھی عروج پر پہنچ چکی ہے۔

ترجمان نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ بی ایس ایف کے مرکزی چیئرمین، جاوید بلوچ کو 23 اپریل 2025 کو ان کی رہائش گاہ سے غیر قانونی طور پر تشدد کا نشانہ بنا کر لاپتہ کیا گیا۔ تین مہینے کی طویل مدت کے بعد بھی وہ ریاستی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل ہیں جبکہ اسی تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے، بی ایس ایف شال زون کے جنرل سیکریٹری، گہرام اسحاق کو 24 اپریل 2025 کو کوئٹہ سول ہسپتال سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ تین ماہ کا عرصہ گزرنے، عدالت کی سماعت، ایف آئی آر کے اندراج اور پرامن جدوجہد کے باوجود بھی نہ تو انہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی بازیاب کیلئے کوئی اہم پیشرفت سامنے لائی گئی ہے۔

بلوچ اسٹوڈانٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ چیئرمین جاوید بلوچ اور گہرام اسحاق کی ماورائے عدالت جبری گمشدگی کے خلاف ایکس (ٹوئیٹر) پر کیمپئن کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں، سماجی کارکنوں اور طلباء تنظیموں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کے خلاف موثر آواز بلند کرکے بلوچ طلباء کی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے عملی اقدام اٹھائیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز