آواران (ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) شہید راشد ہنکین یونٹ آواران کی جانب سے پارٹی کے سابق مرکزی کمیٹی ممبر ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کے سولہ سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا۔
نشست میں مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ نہ صرف ایک انسان دوست شخصیت اور باشعور سیاسی رہنماء ہیں، بلکہ وہ بلوچ قومی حق حاکمیت کے پرجوش داعی بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قابض ریاست پاکستان نے اُن جیسے باکردار رہنماؤں کو خاموش کرنے کے لیے انہیں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو 28 جون 2009 کو آواران کے علاقے ھورناچ سے پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا تھا۔ سولہ برس گزرنے کے باوجود ان کا کوئی اتا پتا نہیں، اور وہ آج بھی قابض ریاست کے تاریک قید خانوں میں پابند سلاسل ہیں۔
مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ، غفور بلوچ اور بی این ایم کے دیگر متعدد رہنماء و کارکن قابض کے عقوبت خانوں میں بدترین تشدد کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ہزاروں بلوچ سیاسی کارکن شہید کیے جا چکے ہیں۔ لیکن ان قربانیوں نے بی این ایم کے کاروانِ فکر کو کمزور نہیں کیا، بلکہ ان کے نظریات آج بھی بی این ایم کے کارکنوں اور بلوچ نوجوانوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بی این ایم ایک عام سیاسی جماعت نہیں بلکہ وہ انقلابی تنظیم ہے جو بلوچستان کی آزادی کے لیے صف اول میں برسرپیکار ہے۔ جو عناصر بی این ایم کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بلوچ قوم کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے کیونکہ یہی مقصد قابض پاکستانی فوج کا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واجہ غلام محمد بلوچ، لالا منیر، ڈاکٹر منان جان، ماسٹر علی اور دیگر رہنماؤں کو شہید کیا گیا، جبکہ اقبال بلوچ، حاصل حسرت، رمضان بلوچ اور دیگر بی این ایم ممبران جبری طور پر لاپتہ ہیں۔
مقررین نے کہا کہ بی این ایم آج بھی ان قربانیوں کے باوجود اپنی جہد کو جاری رکھے ہوئے ہے، اور وہ دن دور نہیں جب بلوچ قوم اپنی آزادی حاصل کرے گی۔
نشست کی نظامت بی این ایم آواران ہنکین یونٹ کی کارکن ھانی بلوچ نے کی۔ تقریب سے بی این ایم ہنکین کے صدر مھران بلوچ، نائب صدر تلار ناز، سابق آرگنائزر رفیق بلوچ اور خازن میرک بلوچ نے بھی خطاب کیا۔


