جمعه, مارچ 28, 2025
Homeخبریںڈاکٹر ماہ رنگ اور کارکنان کی گرفتاری اور ریاستی دہشت گردی کے...

ڈاکٹر ماہ رنگ اور کارکنان کی گرفتاری اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف کل پورے بلوچستان میں احتجاج کیا جائے گا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی

شال (ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، مرکزی کمیٹی کے رکن بیبگر بلوچ، بیبو بلوچ سمیت متعدد کارکنان اور عام بلوچوں کی گرفتاری و جبری گمشدگی اور سریاب میں ریاستی دہشت گردی کے خلاف کل پورے بلوچستان میں “No To Oppression, No To Pakistan’s Tyranny” کے بینر تلے احتجاج ہوگا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی اس وقت بلوچستان میں ریاستی دہشت گردی کے خلاف پُرامن طریقے سے ایک منظم عوامی مزاحمت کر رہی ہے، جس کے پاداش میں تنظیم کی قیادت اور کارکنان بدترین ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ جس طرح سول اسپتال میں لاشوں کے مسئلے کو لے کر بلوچ یکجہتی کمیٹی پر کریک ڈاؤن کو جواز پیش کیا جا رہا ہے، ہم اسے واضح کرتے ہیں کہ جس طرح مشکوک انداز میں متعدد لاشوں کو کوئٹہ کے ایک قبرستان میں دفنایا گیا تھا اور کچھ لاشیں اسی سول اسپتال کے سرد خانے میں رکھ کر کسی کو ان تک رسائی نہیں دی جا رہی تھی، اس المیے کے دوران جبری گمشدگی کے شکار بلوچ افراد کے خاندانوں میں تشویش اور خوف کی لہر دوڑ گئی تھی۔

کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے ریاستِ پاکستان کسی بھی مسلح حملے کے پاداش میں اپنے قید خانوں سے جبری گمشدگی کے شکار افراد کو نکال کر انہیں ماورائے عدالت قتل کر کے جعلی مقابلوں میں مارنے کا دعویٰ کرتی ہے، یا کسی مسلح حملے میں مارے جانے والے مسلح افراد کے ساتھ جبری گمشدگی کے شکار افراد کو بھی قتل کر کے ان کی لاشیں وہیں رکھ دی جاتی ہیں اور انہیں بھی مسلح افراد ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں اور ہمارے پاس بحیثیت تنظیم ان کا ڈیٹا بھی موجود ہے۔

لہٰذا اس بار بھی یہی صورتحال تھی، جبری گمشدگی کے شکار افراد کے اہلِ خانہ ہر روز سول اسپتال کوئٹہ کے چکر لگا رہے تھے، اور ان کا مطالبہ نہایت ہی سادہ اور پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق تھا کہ ان لاشوں تک ہمیں رسائی دی جائے یا ان کی شناخت ظاہر کی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ لاشیں ہمارے پیاروں کی ہیں یا نہیں۔

اس آئینی و قانونی مطالبے کے پاداش میں ریاست نے جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر متعدد متاثرہ خاندانوں کے افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس جبر اور درندگی کی مخالفت کی، متاثرہ خاندانوں کے لیے آواز اٹھائی اور ان کے ساتھ کھڑی رہی، جس کے پاداش میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت اور کارکنان کو بدترین ریاستی جبر کا سامنا ہے۔

اس امر پر بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرتی ہے کہ وہ کل بھی جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین کے ساتھ کھڑی تھی، آج بھی کھڑی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی، جس کے لیے تنظیم کی قیادت سے لے کر کارکنان تک ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ سخت سے سخت ترین ریاستی جبر اور مظالم کا بھی خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا جائے گا اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف بغیر کسی اشتعال، بغیر کسی مہم جوئی کے پُرامن طریقے سے شعوری مزاحمتی جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ عوام اور ریاستی جبر سے متاثرہ، بشمول جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین کو یقین دلاتی ہے کہ تنظیم تمام تر ریاستی جبر، مظالم اور دہشت گردی کے ہر واقعے کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائے گی بلکہ عملی صورت میں پُرامن مزاحمت بھی کرے گی۔ تنظیم کو اس کے لیے جتنی بھی مشکلات اور سختیوں کا سامنا کرنا پڑے، ہم اس کے لیے شعوری طور پر تیار ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی ریاست پر واضح کرتی ہے کہ بی وائی سی کی طاقت عوام ہے اور تنظیم عوام کی طاقت و قوت کی بنیاد پر اس وقت بلوچستان کی سب سے توانا آواز ہے۔ لہٰذا ہم نہ ریاستِ پاکستان کے جبر اور مظالم سے پیچھے ہٹیں گے اور نہ ہی جھوٹے بیانیے کے خوف سے خاموش ہوں گے۔

اسی طرح، ہم ریاست پر یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ شاید ریاستِ پاکستان کے لیے یہ بیانیے کی جنگ ہو، جس کے لیے اس نے مین اسٹریم میڈیا اور صحافیوں کو اس مہم پر لگا دیا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کو دہشت گرد یا پرتشدد تنظیم ظاہر کیا جائے۔ لیکن ہمارے لیے یہ بیانیے اور ڈسکورس کی جنگ نہیں بلکہ ہماری بقا کی جنگ ہے۔ یہ ہماری زندہ رہنے کی جنگ ہے، یہ ہمارے حقوق کی جنگ ہے۔ اس حقوق اور بقا کی جنگ میں ہم نہ ریاستی بیانیے کے دباؤ میں خاموش ہوں گے اور نہ ہی مرعوب ہوں گے۔

اسی کے ساتھ، ہم ریاستِ پاکستان کو مشورہ دیتے ہیں کہ پورے پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا اور صحافیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرکے ہمیں دہشت گرد اور پرتشدد ثابت کرنے کے بجائے اپنے ہی آئین اور قانون کا احترام کرکے بلوچ قوم کے حقوق اور انسانی و قومی حیثیت کو تسلیم کیا جائے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا اور صحافیوں پر بھی واضح کرتی ہے کہ بی وائی سی ایک پُرامن مزاحمتی تنظیم ہے، جس کا مؤقف اور جدوجہد کے اصول روزِ اول سے واضح ہیں۔ ہم ہر روز کسی کی خواہش پر اپنے پُرامن ہونے کی صفائی نہیں دے سکتے اور نہ ہی ہمیں اس کی کوئی ضرورت ہے، لہٰذا ہم سے ایسی توقع بھی نہ رکھی جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ، ہم صحافت جیسے مقدس پیشے کا احترام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اپنے قلم کو چند ٹکوں کے عوض فروخت کر کے جھوٹ پھیلانے اور دروغ گوئی میں استعمال کرنا صحافت اور قلم دونوں کی توہین ہے، جسے بند کیا جانا چاہیے۔ اگر کوئی حقیقی صحافت کرنا چاہتا ہے تو اسے تحقیق اور تخلیق کے اصول اپنانے چاہییں۔ بغیر ریاستی پروٹوکول اور مراعات کے خود بلوچستان آئے، تحقیقاتی طریقہ کار کو اپنائے، فرسٹ ہینڈ ڈیٹا حاصل کرے اور بغیر ریاستی پروپیگنڈے کے حقائق کو عوام کے سامنے پیش کرے۔ اسی سے صحافت جیسے مقدس پیشے کا تقدس بحال ہو سکتا ہے۔

بیان کے آخر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنے کارکنان کو تاکید کرتی ہے کہ وہ تنظیم کی قیادت کی گرفتاری اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف منظم انداز میں اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں۔ ہماری جدوجہد کسی مہم جوئی یا نمود و نمائش کے لیے نہیں بلکہ تاریخی بلوچ قومی مزاحمتی جدوجہد کا تسلسل ہے، جس کی بنیاد انتہائی پختہ ہے اور جو شعور سے لیس ہے۔

تنظیم کے نزدیک سائنسی جدوجہد کا تقاضا یہ ہے کہ دلیل اور منطق کی بنیاد پر اپنی جدوجہد کو شعوری تنقید کے ترازو میں پرکھا جائے، تاکہ نہ ریاستی تشدد اور جبر ہمیں کمزور کر سکے اور نہ ہی ریاستی بیانیہ اور ڈسکورس ہماری رائے، اصول اور مؤقف کو تبدیل کر سکے۔

تنظیم کو مکمل یقین ہے کہ شعور اور منطق سے لیس بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان اس صبر آزما جدوجہد میں انتہائی پختگی کے ساتھ اپنی قومی اور تنظیمی ذمہ داریوں کو پورا کریں گے۔ ہمیں اس بات پر بھی مکمل یقین ہے کہ اس بقا کی جنگ میں جیت مظلوم بلوچ عوام کی ہوگی۔

احتجاج کا سلوگن “No To Oppression, No To Pakistan’s Tyranny” ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز